❮
❯
حدیث نمبر: 1127
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ قَالَ لَهُ : أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ، قَالَ : وَمَا يَبْلُغُ صَوْتِي ؟ قِيلَ : أَذِّنْ وَعَلَيَّ الْبَلَاغُ ، فَنَادَى إِبْرَاهِيمُ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْحَجُّ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ، فَسَمِعَهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ يَحُجُّونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يُلَبُّونَ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا: ﴿وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ﴾ (سورة الحج: 27) ”اور لوگوں میں حج کا اعلان فرما دیں“، ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا: اے پروردگار! میری آواز بھلا کہاں تک پہنچ پائے گی؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: ”آپ صرف پکاریں، اسے لوگوں تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے“، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے پکار کر کہا: ”اے لوگو! تم پر اس قدیم گھر (بیت اللہ) کا حج فرض کر دیا گیا ہے“، پس زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر روح نے اس ندا کو سنا؛ کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ آج بھی دنیا کے کونے کونے سے «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ» (میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں) کا تلبیہ پڑھتے ہوئے حج کے لیے کھچے چلے آتے ہیں۔
یہ روایت اس عظیم الشان معجزے کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی پکار کو کائنات کی وسعتوں میں عام کر کے قیامت تک کے لیے قبولیت عطا فرما دی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :رجاله ثقات. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 11، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 3484، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 9941، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 32478»