المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاعْتِكَافِ باب: اعتکاف کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ شُرَيْحًا عَنِ امْرَأَةٍ نَذَرَتْ أَنْ تَعْتَكِفَ رَجَبَ ذَلِكَ الْعَامِ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : وَكَانَ زِيَادٌ أَوِ ابْنُ زِيَادٍ نَهَى النِّسَاءَ أَنْ يَعْتَكِفْنَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ : فَقَالَ شُرَيْحٌ : إِنِّي لَا أَقُولُ إِنَّهُ فِي كِتَابٍ مُنَزَّلٍ ، وَلَا فِي سُنَّةٍ مَاضِيَةٍ ، إِنَّمَا هُوَ رَأْيٌ ; تَصُومُ رَجَبَ ذَلِكَ الْعَامِ ، فَإِذَا أَفْطَرَتْ أَفْطَرَ مَعَهَا كُلُّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ ، أَوْ أَطْعَمَتْ كُلَّ لَيْلَةٍ مِسْكِينًا ، نُسُكَانِ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ ، يَفْعَلُ اللهُ مَا يَشَاءُ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ عَلَى شُرَيْحٍ .محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے قاضی شریح رحمہ اللہ سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے اس مخصوص سال کے ماہِ رجب میں مسجد کے اندر اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی، جبکہ صورتحال یہ تھی کہ زیاد یا ابنِ زیاد نے عورتوں کو مسجد میں اعتکاف کرنے سے روک دیا تھا، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ممانعت اللہ کی نازل کردہ کسی کتاب میں ہے اور نہ ہی یہ کسی گزشتہ سنتِ ثابتہ میں مذکور ہے، بلکہ یہ تو محض ایک (انتظامی) رائے ہے؛ وہ عورت اس سال رجب کے روزے رکھے اور جب وہ روزہ افطار کرے تو ہر روز ایک مسکین اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائے، یا وہ ہر رات ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اس طرح ایک نذر کے بدلے دو عبادتیں (روزہ اور صدقہ) ادا ہو جائیں گی، اور حقیقت یہی ہے کہ ﴿يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ﴾ (سورۃ ابراہیم: ۲۷) یعنی اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے“۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے قول پر موقوف ہے۔