❮
❯
حدیث نمبر: 1126
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ هُوَ ابْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّ صَفِيَّةَ اعْتَكَفَتْ ، فَمَرِضَ بَعْضُ أَهْلِهَا ، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعُودَهُ ، فَقَالَ : خُذِي بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ وَلَا تَدْخُلِي .
هَذَا مُرْسَلٌ ، أَوْ مُعْضَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
ترجمہ

حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اعتکاف کی حالت میں تھیں کہ ان کے گھر والوں میں سے کوئی شخص بیمار ہو گیا، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی تیمار داری کرنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (باہر ہی سے) دروازے کی دونوں چوکھٹوں کو تھام لو اور اندر داخل نہ ہونا۔“
یہ روایت مرسل یا معضل ہے، البتہ اس کے تمام راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل، معضل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا مُرْسَلٌ ، أَوْ مُعْضَلٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»