قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ رَبَّكُمْ يَطَّلِعُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى خَلْقِهِ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ كُلِّهِمْ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُشْرِكًا أَوْ مُصَارِمًا . قَالُوا : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ ، فَيَدْخُلُ رَمَضَانُ وَهُوَ صَائِمٌ تَعْظِيمًا لِرَمَضَانَ .
ترجمہ
کثیر بن مرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہارا رب شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق کی طرف (خصوصی نظرِ کرم سے) متوجہ ہوتا ہے اور ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو یا (اپنے مسلمان بھائی سے) قطع تعلق کرنے والا (کینہ پرور) ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ رمضان المبارک کی تعظیم و توقیر کی خاطر آپ ﷺ روزے کی حالت ہی میں رمضان کے مہینے میں داخل ہوتے تھے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ أَصْبَحَ مِنَ الْغَدِ صَائِمًا مِنْ شَوَّالٍ ، حَتَّى يَتِمَّ عَلَى آخِرِهِ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جب (ماہِ رمضان کے بعد عید کے روز) روزہ افطار فرما لیتے تو اگلے ہی دن سے شوال کے روزوں کا آغاز کر دیتے، یہاں تک کہ وہ ان روزوں کو ان کے اختتام تک مکمل فرما لیتے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا يَقْرِنُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ .
ترجمہ
امام ابو یعلیٰ اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ بسا اوقات (نفلی روزوں کی کثرت کے ذریعے) ماہِ شعبان کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔“