المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ شَعْبَانَ وَشَوَّالٍ باب: شعبان اور شوال کے روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1087
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ رَبَّكُمْ يَطَّلِعُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى خَلْقِهِ ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ كُلِّهِمْ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُشْرِكًا أَوْ مُصَارِمًا . قَالُوا : وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَعْبَانَ ، فَيَدْخُلُ رَمَضَانُ وَهُوَ صَائِمٌ تَعْظِيمًا لِرَمَضَانَ .ترجمہ
کثیر بن مرہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک تمہارا رب شعبان کی پندرہویں شب اپنی مخلوق کی طرف (خصوصی نظرِ کرم سے) متوجہ ہوتا ہے اور ان سب کی مغفرت فرما دیتا ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو یا (اپنے مسلمان بھائی سے) قطع تعلق کرنے والا (کینہ پرور) ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کثرت سے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ رمضان المبارک کی تعظیم و توقیر کی خاطر آپ ﷺ روزے کی حالت ہی میں رمضان کے مہینے میں داخل ہوتے تھے۔