کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: افطار کے وقت دعا کی قبولیت اور پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُلَيْكِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لِلصَّائِمِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ، فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَفْطَرَ دَعَا أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ وَدَعَا .
قُلْتُ : هَذَا فِي سُنَنِ ابْنِ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا بِلَفْظٍ آخَرَ .
ترجمہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو (بارگاہِ الٰہی میں) لازماً قبول کی جاتی ہے“، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب افطار فرماتے تو اپنے گھر والوں اور بچوں کو اکٹھا کر لیتے اور اللہ کے حضور خوب دعا مانگتے تھے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں ایک دوسری سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1073
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 1753، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2376، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14343»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ ، إِذَا كُنْتَ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقُلْ بَعْدَ إِفْطَارِكَ : اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ، يُكْتَبْ لَكَ مِثْلُ مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! جب تم ماہِ رمضان میں روزے سے ہو تو افطار کے بعد یہ دعا پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» (اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا، تجھ ہی پر بھروسا کیا اور تیرے ہی عطا کردہ رزق سے افطار کیا)، تو تمہارے لیے ان تمام لوگوں کے برابر اجر و ثواب لکھ دیا جائے گا جنہوں نے اس دن روزہ رکھا ہوگا، بغیر اس کے کہ ان روزہ داروں کے اپنے ثواب میں ذرہ برابر کمی کی جائے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1074
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 77»