المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِجَابَةِ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْفِطْرِ وَمَا يَقُولُهُ الصَّائِمُ عِنْدَ فِطْرِهِ باب: افطار کے وقت دعا کی قبولیت اور پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1074
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ وَاقِدٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خَالِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَلِيُّ ، إِذَا كُنْتَ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقُلْ بَعْدَ إِفْطَارِكَ : اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ، يُكْتَبْ لَكَ مِثْلُ مَنْ كَانَ صَائِمًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے علی! جب تم ماہِ رمضان میں روزے سے ہو تو افطار کے بعد یہ دعا پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ» (اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا، تجھ ہی پر بھروسا کیا اور تیرے ہی عطا کردہ رزق سے افطار کیا)، تو تمہارے لیے ان تمام لوگوں کے برابر اجر و ثواب لکھ دیا جائے گا جنہوں نے اس دن روزہ رکھا ہوگا، بغیر اس کے کہ ان روزہ داروں کے اپنے ثواب میں ذرہ برابر کمی کی جائے۔“