المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِجَابَةِ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْفِطْرِ وَمَا يَقُولُهُ الصَّائِمُ عِنْدَ فِطْرِهِ باب: افطار کے وقت دعا کی قبولیت اور پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُلَيْكِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لِلصَّائِمِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ ، فَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا أَفْطَرَ دَعَا أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ وَدَعَا .
قُلْتُ : هَذَا فِي سُنَنِ ابْنِ مَاجَهْ بِإِسْنَادٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا بِلَفْظٍ آخَرَ .سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو (بارگاہِ الٰہی میں) لازماً قبول کی جاتی ہے“، چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب افطار فرماتے تو اپنے گھر والوں اور بچوں کو اکٹھا کر لیتے اور اللہ کے حضور خوب دعا مانگتے تھے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ یہ حدیث سنن ابن ماجہ میں ایک دوسری سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوع اور موقوف دونوں صورتوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے۔