کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: کھجور، تازہ کھجور یا آگ سے نہ پکی چیز سے افطار کرنے کی سنت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا ابْنُ جَرِيحٍ ، حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي الصَّيْفِ ، لَا يُصَلِّي فِي الصَّيْفِ الْمَغْرِبَ إِذَا كَانَ صَائِمًا حَتَّى آتِيَهُ بِرُطَبٍ فَيَأْكُلَ وَيَشْرَبَ ، ثُمَّ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، وَإِذَا كَانَ الشِّتَاءُ أَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ ، ثُمَّ يَقُومُ يُصَلِّي .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ موسمِ گرما میں جب روزے سے ہوتے تو مغرب کی نماز اس وقت تک ادا نہ فرماتے جب تک میں آپ ﷺ کی خدمت میں تازہ کھجوریں پیش نہ کر دیتا، چنانچہ آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے؛ اور جب موسمِ سرما ہوتا تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں خشک کھجوریں پیش کرتا، پس آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے قیام فرماتے۔“
اس حدیث کی سند میں انقطاع (سلسلہِ روایت میں خلا) پایا جاتا ہے۔
اس حدیث کی سند میں انقطاع (سلسلہِ روایت میں خلا) پایا جاتا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ ، أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ ”آپ ﷺ تین کھجوروں سے روزہ افطار فرمائیں یا ایسی کسی چیز سے افطار کریں جسے آگ نے مس نہ کیا ہو“ (یعنی جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہو بلکہ اپنی قدرتی حالت میں ہو)۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو هُوَ أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ بَعْضِ أَهْلِ جَابِرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرُّطَبُ لَمْ يُفْطِرْ إِلَّا عَلَى الرُّطَبِ ، وَإِذَا لَمْ يَكُنِ الرُّطَبُ لَمْ يُفْطِرْ إِلَّا عَلَى التَّمْرِ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا معمولِ مبارک یہ تھا کہ جب تک تازہ کھجوریں میسر رہتیں تو آپ ﷺ صرف تازہ کھجوروں سے ہی روزہ افطار فرماتے، اور جب تازہ کھجوریں دستیاب نہ ہوتیں تو آپ ﷺ خشک کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے۔“