المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَنْ قَالَ لَا يُفْطِرُ إِلَّا الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ باب: کھانے پینے کے سوا کسی چیز سے روزہ نہ ٹوٹنے کے قائلین کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَطَرَتِ السَّمَاءُ بَرَدًا ، فَقَالَ لَنَا أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ : نَاوِلْنِي يَا أَنَسُ مِنْ ذَلِكَ الْبَرَدِ ، فَنَاوَلْتُهُ ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَقُلْتُ : أَلَسْتَ صَائِمًا ؟ قَالَ : بَلَى ، إِنَّ ذَا لَيْسَ بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ ، وَإِنَّمَا هُوَ بَرَكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ، نُطَهِّرُ بِهِ بُطُونَنَا . قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : خُذْ عَنْ عَمِّكَ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ .
1020 \ 2 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ثَنَا أَبِي بِهِ .
1020 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، فَذَكَرَهُ .
1020 \ 4 - أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ آسمان سے اولے برسنے لگے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے، جبکہ ہم ابھی کم عمر لڑکے تھے، فرمایا کہ اے انس! مجھے ان اولوں میں سے کچھ اٹھا کر دو، میں نے انہیں اولے پکڑائے تو وہ روزے کی حالت میں انہیں کھانے لگے، میں نے عرض کی: کیا آپ روزے سے نہیں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں، (میں روزے دار ہوں) لیکن یہ کوئی کھانا یا پینا نہیں ہے بلکہ یہ تو آسمان سے نازل ہونے والی ایک برکت ہے جس کے ذریعے ہم اپنے پیٹوں کی تطہیر کر رہے ہیں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس واقعے کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے چچا کی بات لے لو (یعنی ان کے فہم و عمل کی پیروی کرو)۔“
یہ اسناد ضعیف ہے۔
عبد الوارث بن عبد الصمد نے بھی اپنے والد سے یہی روایت نقل کی ہے۔
امام بزار نے اسے اپنی سند کے ساتھ عبد الصمد کے واسطے سے ذکر کیا ہے۔
نیز امام بزار نے ہلال بن یحییٰ کے واسطے سے ابوعوانہ سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو (یہ عمل کرتے) دیکھا، اور اس میں اس روایت کو موقوفاً ذکر کیا گیا ہے۔