❮
❯
حدیث نمبر: 1021
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا ابْنُ جَرِيحٍ ، حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي الصَّيْفِ ، لَا يُصَلِّي فِي الصَّيْفِ الْمَغْرِبَ إِذَا كَانَ صَائِمًا حَتَّى آتِيَهُ بِرُطَبٍ فَيَأْكُلَ وَيَشْرَبَ ، ثُمَّ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، وَإِذَا كَانَ الشِّتَاءُ أَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ ، ثُمَّ يَقُومُ يُصَلِّي .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ موسمِ گرما میں جب روزے سے ہوتے تو مغرب کی نماز اس وقت تک ادا نہ فرماتے جب تک میں آپ ﷺ کی خدمت میں تازہ کھجوریں پیش نہ کر دیتا، چنانچہ آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے؛ اور جب موسمِ سرما ہوتا تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں خشک کھجوریں پیش کرتا، پس آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے قیام فرماتے۔“
اس حدیث کی سند میں انقطاع (سلسلہِ روایت میں خلا) پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1021
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 2065، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3873، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 4284، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2276»