المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السُّنَّةِ فِي الْفِطْرِ عَلَى التَّمْرِ أَوِ الرُّطَبِ أَوْ مَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ باب: کھجور، تازہ کھجور یا آگ سے نہ پکی چیز سے افطار کرنے کی سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1021
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ثَنَا ابْنُ جَرِيحٍ ، حُدِّثْتُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي الصَّيْفِ ، لَا يُصَلِّي فِي الصَّيْفِ الْمَغْرِبَ إِذَا كَانَ صَائِمًا حَتَّى آتِيَهُ بِرُطَبٍ فَيَأْكُلَ وَيَشْرَبَ ، ثُمَّ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، وَإِذَا كَانَ الشِّتَاءُ أَتَيْتُهُ بِتَمْرٍ فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ ، ثُمَّ يَقُومُ يُصَلِّي .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ موسمِ گرما میں جب روزے سے ہوتے تو مغرب کی نماز اس وقت تک ادا نہ فرماتے جب تک میں آپ ﷺ کی خدمت میں تازہ کھجوریں پیش نہ کر دیتا، چنانچہ آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے؛ اور جب موسمِ سرما ہوتا تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں خشک کھجوریں پیش کرتا، پس آپ ﷺ انہیں تناول فرماتے اور پانی نوش فرماتے، پھر نماز کے لیے قیام فرماتے۔“
اس حدیث کی سند میں انقطاع (سلسلہِ روایت میں خلا) پایا جاتا ہے۔