المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السُّنَّةِ فِي الْفِطْرِ عَلَى التَّمْرِ أَوِ الرُّطَبِ أَوْ مَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ باب: کھجور، تازہ کھجور یا آگ سے نہ پکی چیز سے افطار کرنے کی سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1022
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يُفْطِرَ عَلَى ثَلَاثِ تَمَرَاتٍ ، أَوْ شَيْءٍ لَمْ تُصِبْهُ النَّارُ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ ”آپ ﷺ تین کھجوروں سے روزہ افطار فرمائیں یا ایسی کسی چیز سے افطار کریں جسے آگ نے مس نہ کیا ہو“ (یعنی جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہو بلکہ اپنی قدرتی حالت میں ہو)۔