کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: روزے میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَعْنِي طَلْحَةَ بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعِفُّوا الصِّيَامَ ، فَإِنَّ الصِّيَامَ لَيْسَ مِنَ الطَّعَامِ وَلَا مِنَ الشَّرَابِ ، وَلَكِنَّ الصِّيَامَ مِنَ الْمَعَاصِي .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے روزوں کو (گناہوں اور لغویات سے) پاک و صاف رکھو، کیونکہ روزہ محض کھانے اور پینے سے رک جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقت میں روزہ تو گناہوں سے اجتناب کرنے کا نام ہے۔“
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اہل مکہ کے ایک بزرگ طلحہ بن عمرو اور عطاء کے واسطے سے نقل کیا ہے۔
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اس روایت کو اہل مکہ کے ایک بزرگ طلحہ بن عمرو اور عطاء کے واسطے سے نقل کیا ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ إِذَا صَامَ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ : نُعِفُّ صِيَامَنَا .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب بھی روزے کی حالت میں ہوتے تو مسجد میں (عبادت کی نیت سے) گوشہ نشین ہو جاتے اور فرماتے: ”ہم (اس طرح لایعنی گفتگو اور غیبت سے بچ کر) اپنے روزے کو پاکیزہ رکھتے ہیں۔“
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُنَا يَقُولُونَ : أَهْوَنُ الصِّيَامِ تَرْكُ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ .
ترجمہ
امام مسدد، حماد بن زید کے واسطے سے جلیل القدر تابعی حضرت عطا بن سائب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ہمارے بزرگ رفقاء (صحابہ و تابعین) یہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”روزے کا سب سے ہلکا اور ادنیٰ درجہ محض کھانے اور پینے کو ترک کر دینا ہے“
وضاحت: اس بصیرت افروز قول کا منشا یہ ہے کہ روزے کی اصل روح اور کمال یہ ہے کہ انسان کھانے پینے سے رکنے کے ساتھ ساتھ لغو باتوں، غیبت اور تمام معاصی سے بھی مکمل پرہیز کرے، کیونکہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا تو روزے کا ابتدائی اور کمزور ترین درجہ ہے۔
وضاحت: اس بصیرت افروز قول کا منشا یہ ہے کہ روزے کی اصل روح اور کمال یہ ہے کہ انسان کھانے پینے سے رکنے کے ساتھ ساتھ لغو باتوں، غیبت اور تمام معاصی سے بھی مکمل پرہیز کرے، کیونکہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا تو روزے کا ابتدائی اور کمزور ترین درجہ ہے۔
قَالَ : وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ ، وَإِذَا تَقَيَّأَ أَفْطَرَ .
ترجمہ
یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عون سے اور انہوں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (روزے کی حالت میں قے آنے کے متعلق) فرمایا: ”اگر کسی شخص کو خود بخود (بے اختیار) قے آ جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر وہ جان بوجھ کر خود قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔“