المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصِّيَامِ باب: روزے میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1019
قَالَ : وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : إِذَا ذَرَعَهُ الْقَيْءُ لَمْ يُفْطِرْ ، وَإِذَا تَقَيَّأَ أَفْطَرَ .ترجمہ
یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عون سے اور انہوں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (روزے کی حالت میں قے آنے کے متعلق) فرمایا: ”اگر کسی شخص کو خود بخود (بے اختیار) قے آ جائے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر وہ جان بوجھ کر خود قے کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔“