کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: فرض روزے کے لیے رات سے نیت کی شرط اور نفل روزے میں اس کے عدمِ وجوب کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ أَجْمَعَ الصَّوْمَ فِي اللَّيْلِ فَلْيَصُمْ ، وَمَنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يُجْمِعْهُ فَلَا يَصُمْ .
ترجمہ
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے رات کے وقت ہی روزے کا پختہ ارادہ (نیت) کر لیا تو وہ روزہ رکھے، اور جس نے صبح کی اور رات میں نیت نہ کی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔“
یہ حکم فرض روزے کے لیے ہے نہ کہ نفلی روزے کے لیے۔
یہ حکم فرض روزے کے لیے ہے نہ کہ نفلی روزے کے لیے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ فَيَدْعُو بِالطَّعَامِ فَلَا يَجِدُهُ ، فَيَفْرِضُ الصَّوْمَ ، قَالَتْ : وَرُبَّمَا جَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ وَعِنْدِي طُرْفَةٌ ، فَنَقُولُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَوْلَا أَنَّكَ صَائِمٌ لَأَطْعَمْتُكَ ، فَيَدْعُو فَيَأْكُلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا امام مسدد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ہمیں عبد الواحد نے حدیث سنائی، وہ لیث سے، وہ مجاہد سے اور وہ نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان فرمایا: نبی کریم ﷺ (کبھی گھر) تشریف لاتے اور کھانے کا دریافت فرماتے، پھر جب گھر میں کچھ نہ پاتے تو آپ ﷺ روزے کی نیت فرما لیتے؛ آپ بیان کرتی ہیں کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آپ ﷺ تشریف لاتے جبکہ آپ ﷺ روزے سے ہوتے اور میرے پاس کوئی عمدہ تحفہ یا کھانے کی کوئی نئی چیز موجود ہوتی، تو ہم عرض کرتیں: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ روزے سے نہ ہوتے تو ہم آپ کی خدمت میں یہ کھانا پیش کرتیں۔“ تو آپ ﷺ وہ کھانا طلب فرماتے اور اسے تناول فرما لیتے۔
وضاحت: ائمہ و شارحین کے نزدیک یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ رکھنے کے لیے صبح صادق سے پہلے نیت کرنا شرط نہیں ہے اور اسے کسی مصلحت یا ضیافت کی خاطر افطار کرنا بھی شرعاً جائز ہے۔
وضاحت: ائمہ و شارحین کے نزدیک یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ رکھنے کے لیے صبح صادق سے پہلے نیت کرنا شرط نہیں ہے اور اسے کسی مصلحت یا ضیافت کی خاطر افطار کرنا بھی شرعاً جائز ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَسَحَّرْتُ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُفْطِرَ ؟ قَالَ : أَفْطِرْ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَقُولُ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ فَإِذَا قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ .
ترجمہ
ابو سفیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: ”میں نے سحری کر لی تھی، پھر میرا ارادہ ہوا کہ روزہ افطار کر دوں، کیا ایسا کر سکتا ہوں؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”افطار کر لو۔“ پھر انہوں نے فرمایا: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے پاس آتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ جب وہ کہتے: نہیں، تو آپ فرماتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
وضاحت: اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے، نیز نفلی روزہ شروع کرنے کے بعد اسے افطار کرنے کی گنجائش ہے۔
وضاحت: اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے، نیز نفلی روزہ شروع کرنے کے بعد اسے افطار کرنے کی گنجائش ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَأْتِيهِمْ بَعْدَمَا يُصْبِحُ فَيَسْأَلُهُمُ الْغَدَاءَ فَلَا يَجِدُهُ ، فَيَقُولُ : فَأَنَا إِذًا صَائِمٌ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ صبح کے وقت گھر والوں کے پاس تشریف لاتے اور ان سے کھانے کے بارے میں دریافت فرماتے، پھر جب کھانا میسر نہ ہوتا تو ارشاد فرماتے: ”تب میں روزے سے ہوں۔“
یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔
یہ روایت موقوفاً صحیح ہے۔