المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يُجْتَنَبُ فِي الصِّيَامِ باب: روزے میں قابلِ اجتناب امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 1018
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُنَا يَقُولُونَ : أَهْوَنُ الصِّيَامِ تَرْكُ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ .ترجمہ
امام مسدد، حماد بن زید کے واسطے سے جلیل القدر تابعی حضرت عطا بن سائب رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ہمارے بزرگ رفقاء (صحابہ و تابعین) یہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”روزے کا سب سے ہلکا اور ادنیٰ درجہ محض کھانے اور پینے کو ترک کر دینا ہے“
وضاحت: اس بصیرت افروز قول کا منشا یہ ہے کہ روزے کی اصل روح اور کمال یہ ہے کہ انسان کھانے پینے سے رکنے کے ساتھ ساتھ لغو باتوں، غیبت اور تمام معاصی سے بھی مکمل پرہیز کرے، کیونکہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنا تو روزے کا ابتدائی اور کمزور ترین درجہ ہے۔