المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْفَرْضِ دُونَ التَّطَوُّعِ باب: فرض روزے کے لیے رات سے نیت کی شرط اور نفل روزے میں اس کے عدمِ وجوب کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، ثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِيءُ فَيَدْعُو بِالطَّعَامِ فَلَا يَجِدُهُ ، فَيَفْرِضُ الصَّوْمَ ، قَالَتْ : وَرُبَّمَا جَاءَ وَهُوَ صَائِمٌ وَعِنْدِي طُرْفَةٌ ، فَنَقُولُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَوْلَا أَنَّكَ صَائِمٌ لَأَطْعَمْتُكَ ، فَيَدْعُو فَيَأْكُلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا امام مسدد رحمہ اللہ نے روایت کیا کہ ہمیں عبد الواحد نے حدیث سنائی، وہ لیث سے، وہ مجاہد سے اور وہ نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان فرمایا: نبی کریم ﷺ (کبھی گھر) تشریف لاتے اور کھانے کا دریافت فرماتے، پھر جب گھر میں کچھ نہ پاتے تو آپ ﷺ روزے کی نیت فرما لیتے؛ آپ بیان کرتی ہیں کہ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ آپ ﷺ تشریف لاتے جبکہ آپ ﷺ روزے سے ہوتے اور میرے پاس کوئی عمدہ تحفہ یا کھانے کی کوئی نئی چیز موجود ہوتی، تو ہم عرض کرتیں: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ روزے سے نہ ہوتے تو ہم آپ کی خدمت میں یہ کھانا پیش کرتیں۔“ تو آپ ﷺ وہ کھانا طلب فرماتے اور اسے تناول فرما لیتے۔
وضاحت: ائمہ و شارحین کے نزدیک یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نفلی روزہ رکھنے کے لیے صبح صادق سے پہلے نیت کرنا شرط نہیں ہے اور اسے کسی مصلحت یا ضیافت کی خاطر افطار کرنا بھی شرعاً جائز ہے۔