❮
❯
حدیث نمبر: 1014
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَسَحَّرْتُ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُفْطِرَ ؟ قَالَ : أَفْطِرْ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَقُولُ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ فَإِذَا قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ .
ترجمہ

ابو سفیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: ”میں نے سحری کر لی تھی، پھر میرا ارادہ ہوا کہ روزہ افطار کر دوں، کیا ایسا کر سکتا ہوں؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”افطار کر لو۔“ پھر انہوں نے فرمایا: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے پاس آتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ جب وہ کہتے: نہیں، تو آپ فرماتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
وضاحت: اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے، نیز نفلی روزہ شروع کرنے کے بعد اسے افطار کرنے کی گنجائش ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصيام / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مسند البزار برقم: 7600»