المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصيام— روزے کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اشْتِرَاطِ النِّيَّةِ لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْفَرْضِ دُونَ التَّطَوُّعِ باب: فرض روزے کے لیے رات سے نیت کی شرط اور نفل روزے میں اس کے عدمِ وجوب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1014
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : تَسَحَّرْتُ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُفْطِرَ ؟ قَالَ : أَفْطِرْ ، ثُمَّ قَالَ : كَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَقُولُ : عِنْدَكُمْ شَيْءٌ ؟ فَإِذَا قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ .ترجمہ
ابو سفیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: ”میں نے سحری کر لی تھی، پھر میرا ارادہ ہوا کہ روزہ افطار کر دوں، کیا ایسا کر سکتا ہوں؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”افطار کر لو۔“ پھر انہوں نے فرمایا: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کے پاس آتے اور دریافت کرتے: ”کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ جب وہ کہتے: نہیں، تو آپ فرماتے: ”پھر میں روزے سے ہوں۔“
وضاحت: اس اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے، نیز نفلی روزہ شروع کرنے کے بعد اسے افطار کرنے کی گنجائش ہے۔