کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: پھلوں کی پیداوار کا (درختوں پر ہی) تخمینہ لگانے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَعَثَهُ عَلَى خَرْصِ التَّمْرِ ، فَقَالَ : إِذَا أَتَيْتَ عَلَى أَرْضٍ فَاخْرُصْهَا ، وَدَعْ لَهُمْ قَدْرَ مَا يَأْكُلُونَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ سَهْلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرْفُوعًا .
ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں کھجوروں کی فصل کا تخمینہ لگانے کے لیے روانہ کیا اور ہدایت فرمائی: ”جب تم کسی زمین پر پہنچو تو وہاں کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ اور (زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت) مالکان کے لیے اتنی مقدار چھوڑ دیا کرو جتنی وہ خود کھاتے ہوں۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ موقوف ہے، تاہم ائمہ حدیث نے اسی سند کے ساتھ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 922
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ سَهْلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرْفُوعًا . »
«أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 1469، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 7537، 7538، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 922، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7221، 7222، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10663، 37364، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3098»
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ فَطَمَسَ عَلَيْهِمْ نَخْلَهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَتَانَا فُلَانٌ فَطَمَسَ عَلَيْنَا نَخْلَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَقَدْ بَعَثْتُهُ وَإِنَّهُ لَفِي نَفْسِي لَأَمِينٌ ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْتُمْ مَا طَمَسَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْنَاهُ ، وَرَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ . قَالُوا : هَذَا الْحَقُّ ، وَبِالْحَقِّ قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ .
ترجمہ
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کسی قوم کی طرف (زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کے لیے) روانہ فرمایا تو اس نے ان کے کھجور کے باغات کے معاملے میں ان پر زیادتی کی، چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہمارے پاس فلاں شخص آیا اور اس نے ہماری کھجوروں کی فصل کے تخمینے میں ہم پر زیادتی کی ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جب اسے بھیجا تھا تو میرے نزدیک وہ یقیناً ایک امانت دار شخص تھا، اب اگر تم چاہو تو جو زیادتی اس نے تم پر کی ہے اس کا (خود) بدلہ لے لو، اور اگر تم چاہو تو ہم خود اس سے وہ مال لے کر تمہیں واپس کر دیتے ہیں۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یہی عینِ حق ہے، اور حق ہی کے سہارے آسمان و زمین قائم ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 923
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :لم يذكر حكمًا صريحًا على الإسناد. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»