المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْخَرْصِ فِي الثِّمَارِ باب: پھلوں کی پیداوار کا (درختوں پر ہی) تخمینہ لگانے کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ فَطَمَسَ عَلَيْهِمْ نَخْلَهُمْ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَتَانَا فُلَانٌ فَطَمَسَ عَلَيْنَا نَخْلَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَقَدْ بَعَثْتُهُ وَإِنَّهُ لَفِي نَفْسِي لَأَمِينٌ ، فَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْتُمْ مَا طَمَسَ عَلَيْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ أَخَذْنَاهُ ، وَرَدَدْنَاهُ عَلَيْكُمْ . قَالُوا : هَذَا الْحَقُّ ، وَبِالْحَقِّ قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ .سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کسی قوم کی طرف (زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کے لیے) روانہ فرمایا تو اس نے ان کے کھجور کے باغات کے معاملے میں ان پر زیادتی کی، چنانچہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ہمارے پاس فلاں شخص آیا اور اس نے ہماری کھجوروں کی فصل کے تخمینے میں ہم پر زیادتی کی ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے جب اسے بھیجا تھا تو میرے نزدیک وہ یقیناً ایک امانت دار شخص تھا، اب اگر تم چاہو تو جو زیادتی اس نے تم پر کی ہے اس کا (خود) بدلہ لے لو، اور اگر تم چاہو تو ہم خود اس سے وہ مال لے کر تمہیں واپس کر دیتے ہیں۔“ ان لوگوں نے عرض کی: یہی عینِ حق ہے، اور حق ہی کے سہارے آسمان و زمین قائم ہیں۔