المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْخَرْصِ فِي الثِّمَارِ باب: پھلوں کی پیداوار کا (درختوں پر ہی) تخمینہ لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 922
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - بَعَثَهُ عَلَى خَرْصِ التَّمْرِ ، فَقَالَ : إِذَا أَتَيْتَ عَلَى أَرْضٍ فَاخْرُصْهَا ، وَدَعْ لَهُمْ قَدْرَ مَا يَأْكُلُونَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ سَهْلٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرْفُوعًا .ترجمہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں کھجوروں کی فصل کا تخمینہ لگانے کے لیے روانہ کیا اور ہدایت فرمائی: ”جب تم کسی زمین پر پہنچو تو وہاں کی پیداوار کا اندازہ لگاؤ اور (زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت) مالکان کے لیے اتنی مقدار چھوڑ دیا کرو جتنی وہ خود کھاتے ہوں۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ موقوف ہے، تاہم ائمہ حدیث نے اسی سند کے ساتھ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بھی روایت کیا ہے۔