کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: قبروں کی زیارت اور اس کے آداب کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ وَقَدْ أَذِنْتُ لَكُمْ فِيهِنَّ ، نَهَيْتُكُمْ أَنْ تَنْبِذُوا فَانْبِذُوا ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَدَّخِرُوا لَحْمَ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ، وَنَهَيْتُكُمْ أَنْ تَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَزُورُوهَا ، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا .
ترجمہ
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں تین کاموں سے منع کیا تھا اور اب میں نے تمہیں ان کی اجازت دے دی ہے: میں نے تمہیں (مخصوص برتنوں میں) نبیذ تیار کرنے سے روکا تھا، سو اب تم نبیذ بنا لیا کرو، اور (یاد رکھو کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے؛ اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا، سو اب تم اسے خود بھی کھاؤ اور (آئندہ کے لیے) جمع کر کے بھی رکھو؛ نیز میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، تو اب تم ان کی زیارت کیا کرو، لیکن (وہاں جا کر) کوئی نازیبا یا لغو بات زبان سے نہ نکالو۔“
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 835) میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 835) میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَبْطُحِ إِذْ قَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَبْشِرًا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَجَلَسَ عِنْدَ قَبْرٍ مِنْهَا ، ثُمَّ جَلَسَ إِلَيْنَا كَئِيبًا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَقَدْ قُمْتَ مِنْ عِنْدِنَا قَبْلُ مُسْتَبْشِرًا ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ كَئِيبٌ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَ أُمِّي فَأَذِنَ لِي ، أَوْ قَالَ : فَرَخَّصَ لِي ، فَذَهَبْتُ لِأَشْفَعَ لَهَا فَمُنِعْتُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بطحاء کے مقام پر موجود تھے کہ اچانک آپ ﷺ خوشی و مسرت کے عالم میں اٹھ کر قبرستان کی جانب تشریف لے گئے اور وہاں موجود ایک قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے، پھر جب آپ ﷺ ہمارے پاس واپس پلٹے تو انتہائی مغموم اور رنجیدہ تھے، ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ ابھی ہمارے پاس سے ہشاش بشاش ہو کر اٹھے تھے لیکن جب واپس آئے ہیں تو آپ پر اداسی چھائی ہوئی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تھی تو اس نے مجھے اجازت عطا فرما دی“ یا فرمایا: ”پس مجھے رخصت دے دی گئی، پھر میں ان کی شفاعت کرنے کے لیے گیا تو مجھے اس سے منع کر دیا گیا۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمرو بن حصین قاضی موجود ہیں جو کہ متروک الحدیث ہیں، نیز فرقد سبخی بھی حفظ کے معاملے میں ضعیف ہیں، اس بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمرو بن حصین قاضی موجود ہیں جو کہ متروک الحدیث ہیں، نیز فرقد سبخی بھی حفظ کے معاملے میں ضعیف ہیں، اس بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَرْجِسَ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَقُولُ : لَأَنْ أَجْلِسَ عَلَى جَمْرَةٍ فَتَحْرِقَ مَا دُونَ لَحْمِي حَتَّى تُفْضِيَ إِلَيَّ أَحَبُّ مِنْ أَنْ أَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ .
قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ : وَرَأَيْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي الْمَقَابِرِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَجْلَسَنِي عَلَى قَبْرٍ ، وَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكَ لِمَنْ أَحْدَثَ عَلَيْهِ .
قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ : وَرَأَيْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي الْمَقَابِرِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَجْلَسَنِي عَلَى قَبْرٍ ، وَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكَ لِمَنْ أَحْدَثَ عَلَيْهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سرجس اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرا کسی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ جانا، یہاں تک کہ وہ میرے لباس کو جلا ڈالے اور اس کی تپش براہِ راست میری کھال تک پہنچ جائے، مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی قبر پر بیٹھوں۔“
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ کو قبرستان میں دیکھا تو ان سے اس قول کا تذکرہ کیا، انہوں نے (اس کی عملی وضاحت کے لیے) مجھے ایک قبر پر بٹھا دیا اور فرمایا: ”بے شک یہ (سخت وعید) تو صرف اس شخص کے لیے ہے جو قبر پر بیٹھ کر اسے ناپاک کرے (یعنی وہاں قضاۓ حاجت کرے)۔“
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ کو قبرستان میں دیکھا تو ان سے اس قول کا تذکرہ کیا، انہوں نے (اس کی عملی وضاحت کے لیے) مجھے ایک قبر پر بٹھا دیا اور فرمایا: ”بے شک یہ (سخت وعید) تو صرف اس شخص کے لیے ہے جو قبر پر بیٹھ کر اسے ناپاک کرے (یعنی وہاں قضاۓ حاجت کرے)۔“
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ جَلَسَ عَلَى قَبْرٍ يَتَغَوَّطُ ، أَوْ يَبُولُ ، فَكَأَنَّمَا جَلَسَ عَلَى جَمْرَةٍ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی قبر پر قضائے حاجت کرنے یا پیشاب کرنے کی غرض سے بیٹھا، تو (اس فعل کی سنگینی و شناعت کے باعث) گویا وہ آگ کے دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھا۔“
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے اس روایت کو حماد بن خالد، محمد بن ابی حمید اور محمد بن کعب کے واسطہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے اس روایت کو حماد بن خالد، محمد بن ابی حمید اور محمد بن کعب کے واسطہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : نَهَى نَبِيُّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقُبُورِ أَوْ يُصَلَّى عَلَيْهَا .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”اللہ کے نبی ﷺ نے قبروں پر بیٹھنے یا ان کے اوپر نماز ادا کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور مستند ہیں۔