المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الدَّفْنِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ باب: ایک ہی قبر میں تدفین کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 840
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ جَمِيلَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَتْ : قُتِلَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَ أُحُدٍ ، فَدُفِنَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مِنْ مِيرَاثِهِمَا شَيْئًا ، أَخَذَتْهُ الْحُلَفَاءُ .
قُلْتُ : جَابِرٌ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ جَاءَ أَنَّ عَمَّهَا أَخَذَ مَوْجُودَ أَبِيهَا ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنَعَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسُؤَالِ أُمِّهَا ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا نِصْفَهَا فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا الطَّبَرِيُّ وَغَيْرُهُ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ النِّسَاءِ .ترجمہ
جمیلہ بنت سعد بن ربیع رحمہا اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے والد اور میرے چچا غزوۂ اُحد کے دن شہید ہوئے اور دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔ مجھے ان دونوں کے ترکے میں سے کچھ بھی نہ ملا، کیونکہ ان کے حلیفوں نے سارا مال لے لیا تھا۔“
میں کہتا ہوں: اس سند میں جابر جعفی ضعیف ہے۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ان کے چچا نے ان کے والد کا موجود مال لے لیا تھا، پھر ان کی والدہ کے سوال پر نبی کریم ﷺ نے انہیں اس سے روک دیا اور حکم فرمایا کہ جمیلہ کو اس مال کا نصف دیا جائے۔ اس واقعے کو امام طبری اور دیگر مفسرین نے سورۃ النساء کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔