المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْأَدَبِ فِي ذَلِكَ باب: قبروں کی زیارت اور اس کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْأَبْطُحِ إِذْ قَامَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَبْشِرًا إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَجَلَسَ عِنْدَ قَبْرٍ مِنْهَا ، ثُمَّ جَلَسَ إِلَيْنَا كَئِيبًا ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، لَقَدْ قُمْتَ مِنْ عِنْدِنَا قَبْلُ مُسْتَبْشِرًا ، وَرَجَعْتَ وَأَنْتَ كَئِيبٌ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي أَنْ أَزُورَ قَبْرَ أُمِّي فَأَذِنَ لِي ، أَوْ قَالَ : فَرَخَّصَ لِي ، فَذَهَبْتُ لِأَشْفَعَ لَهَا فَمُنِعْتُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بطحاء کے مقام پر موجود تھے کہ اچانک آپ ﷺ خوشی و مسرت کے عالم میں اٹھ کر قبرستان کی جانب تشریف لے گئے اور وہاں موجود ایک قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے، پھر جب آپ ﷺ ہمارے پاس واپس پلٹے تو انتہائی مغموم اور رنجیدہ تھے، ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ ابھی ہمارے پاس سے ہشاش بشاش ہو کر اٹھے تھے لیکن جب واپس آئے ہیں تو آپ پر اداسی چھائی ہوئی ہے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تھی تو اس نے مجھے اجازت عطا فرما دی“ یا فرمایا: ”پس مجھے رخصت دے دی گئی، پھر میں ان کی شفاعت کرنے کے لیے گیا تو مجھے اس سے منع کر دیا گیا۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عمرو بن حصین قاضی موجود ہیں جو کہ متروک الحدیث ہیں، نیز فرقد سبخی بھی حفظ کے معاملے میں ضعیف ہیں، اس بنا پر یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔