المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْأَدَبِ فِي ذَلِكَ باب: قبروں کی زیارت اور اس کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَرْجِسَ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَقُولُ : لَأَنْ أَجْلِسَ عَلَى جَمْرَةٍ فَتَحْرِقَ مَا دُونَ لَحْمِي حَتَّى تُفْضِيَ إِلَيَّ أَحَبُّ مِنْ أَنْ أَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ .
قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ : وَرَأَيْتُ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ فِي الْمَقَابِرِ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَجْلَسَنِي عَلَى قَبْرٍ ، وَقَالَ : إِنَّمَا ذَلِكَ لِمَنْ أَحْدَثَ عَلَيْهِ .سیدنا عبداللہ بن سرجس اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرا کسی دہکتے ہوئے انگارے پر بیٹھ جانا، یہاں تک کہ وہ میرے لباس کو جلا ڈالے اور اس کی تپش براہِ راست میری کھال تک پہنچ جائے، مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی قبر پر بیٹھوں۔“
عثمان بن حکیم کہتے ہیں کہ میں نے خارجہ بن زید رحمہ اللہ کو قبرستان میں دیکھا تو ان سے اس قول کا تذکرہ کیا، انہوں نے (اس کی عملی وضاحت کے لیے) مجھے ایک قبر پر بٹھا دیا اور فرمایا: ”بے شک یہ (سخت وعید) تو صرف اس شخص کے لیے ہے جو قبر پر بیٹھ کر اسے ناپاک کرے (یعنی وہاں قضاۓ حاجت کرے)۔“