❮
❯
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يُصْبِحُ النَّاسُ مُجْدِبِينَ فَيَأْتِيهِمُ اللهُ تَعَالَى بِرِزْقٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ ; يَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا .
ترجمہ
سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اس حال میں صبح کرتے ہیں کہ وہ قحط اور خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے انہیں رزق (بارش) عطا فرماتا ہے، تو وہ صبح ہوتے ہی شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں؛ وہ یہ کہتے ہیں کہ: ہمیں فلاں فلاں ستارے کے اثر سے بارش ملی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 747
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15109، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2549، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1627»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ هُوَ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَتَمَطَّرُ فِي أَوَّلِ مَطَرِهِ فَيَنْـزِعُ ثِيَابَهُ إِلَّا الْإِزَارَ .
ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ (موسم کی) پہلی بارش کے نزول کے وقت اپنے جسمِ اطہر کو بارش کے سامنے پیش فرماتے تھے (تاکہ بارش کی برکت حاصل ہو)، پس آپ ﷺ اپنا تہبند چھوڑ کر (جسم کے بالائی حصے سے) کپڑے اتار دیا کرتے تھے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کی اصل صحیح مسلم (898) میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 748
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدا
في إسناده يزيد الرقاشي ضعيف جدا ، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 314) »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 748، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26701»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ثَلَاثٌ أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي : الِاسْتِسْقَاءُ بِالْأَنْوَاءِ ، وَحَيْفُ السُّلْطَانِ ، وَتَكْذِيبٌ بِالْقَدَرِ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مجھے اپنی امت پر سخت اندیشہ ہے: ستاروں کی تاثیر کے عقیدے سے بارش طلب کرنا، حکمران کا ظلم و جور، اور تقدیرِ الہی کو جھٹلانا۔“
اس حدیث کی سند میں موجود راوی محمد بن القاسم الاسدی ضعیف ہے، تاہم اس کے متابعات اور شواہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 749
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 20321، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1853، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1873، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 99، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 4288، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1629، 4193/1»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ : إِنَّ اللهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ ، وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْهِمْ أَنْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ تُضِلُّهُمُ النُّجُومُ ؟ قَالَ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَنْزِلُ الْغَيْثُ فَيَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا .
750 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى طَهَّرَ هَذِهِ الْقَرْيَةَ مِنَ الشِّرْكِ ، إِلَّا أَنْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ .
ترجمہ
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلا، تو آپ ﷺ نے اس (مدینہ) کی طرف التفات فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس «الجَزِيرَةَ» ”جزیرہ نما عرب“ کو شرک سے پاک کر دیا ہے، لیکن میں ان لوگوں کے بارے میں اس بات سے خائف ہوں کہ ستارے انہیں گمراہی میں ڈال دیں گے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ستارے انہیں کیسے گمراہ کریں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(اس صورت میں کہ) بارش نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں: «مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا» ”ہم پر فلاں ستارے کے طلوع یا غروب ہونے کے اثر سے بارش برسائی گئی ہے۔“
امام ابویعلیٰ نے ایک دوسری سند سے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس «القَرْيَةَ» ”بستی یعنی مدینہ“ کو شرک سے پاک و صاف فرما دیا ہے، سوائے اس اندیشے کے کہ ستارے انہیں راہِ حق سے بھٹکا دیں۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 750
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حسن لغيره. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 580، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 8474، 8475، 13270، 13271، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2680/1، 2680/2»