کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سورج گرہن کی نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يَزِيدَ هُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ ، وَفُلَانٌ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ ، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ .
ترجمہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ عزوجل کی قدرت کی نشانیوں میں سے دو عظیم نشانیاں ہیں، لہٰذا جب تم ایسی صورتِ حال (گرہن) دیکھو تو فوراً گھبرا کر اللہ کے حضور نماز کی طرف لپکو۔“
اس روایت کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، لیکن اس کا مضمون صحیحین کی روایات سے ثابت ہونے کی بنا پر مستند ہے۔
اس روایت کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف راوی ہے، لیکن اس کا مضمون صحیحین کی روایات سے ثابت ہونے کی بنا پر مستند ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : صَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ .
ترجمہ
سیدنا ابوقلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ میمون میں جب سورج کو گرہن لگا تو آپ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) ارشاد فرمایا: ”تم (گرہن کی نماز) بالکل اسی ہیئت و طریقے پر ادا کرو جس طرح تم نے حال ہی میں فرض نمازوں میں سے کوئی نماز ادا کی ہے۔“
تخریج: اس روایت کو امام نسائی نے 'السنن الکبریٰ' (1852) میں نقل کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
تخریج: اس روایت کو امام نسائی نے 'السنن الکبریٰ' (1852) میں نقل کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْكُسُوفِ ، فَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ فِيهَا حَرْفًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے سورج گرہن کی نماز ادا کی، تو میں نے اس پوری نماز کے دوران آپ ﷺ سے (قراءت کا) ایک حرف بھی نہیں سنا۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ راوی ہیں جو سوءِ حفظ کی بنا پر ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم یہ روایت سورج گرہن کی نماز میں سری قراءت (آہستہ پڑھنے) کے مسئلے میں علمی استدلال کے لیے پیش کی جاتی ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ راوی ہیں جو سوءِ حفظ کی بنا پر ضعیف قرار دیے گئے ہیں، تاہم یہ روایت سورج گرہن کی نماز میں سری قراءت (آہستہ پڑھنے) کے مسئلے میں علمی استدلال کے لیے پیش کی جاتی ہے۔