المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ باب: نمازِ استسقاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 747
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يُصْبِحُ النَّاسُ مُجْدِبِينَ فَيَأْتِيهِمُ اللهُ تَعَالَى بِرِزْقٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ ; يَقُولُونَ : مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا .ترجمہ
سیدنا معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اس حال میں صبح کرتے ہیں کہ وہ قحط اور خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے انہیں رزق (بارش) عطا فرماتا ہے، تو وہ صبح ہوتے ہی شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں؛ وہ یہ کہتے ہیں کہ: ہمیں فلاں فلاں ستارے کے اثر سے بارش ملی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔