کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: گھروں میں نوافل ادا کرنے کے حکم کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا ، وَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ تَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ .
ترجمہ
سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ (یعنی نوافل) اپنے گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنا لو (کہ وہاں عبادت ہی نہ کرو)، اور میرے گھر (یا میری قبر) کو عید گاہ یا میلہ گاہ نہ بناؤ (کہ وہاں بار بار اجتماع کی جگہ بنا لو)، اور مجھ پر درود و سلام بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود و سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے خواہ تم (کائنات کے) کسی بھی حصے میں ہو“۔
تخریج: اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن نافع الصائغ کے حافظے کے حوالے سے محدثین کے ہاں کلام ہے، تاہم اس حدیث کے تمام اجزاء دیگر صحیح و حسن شواہد (جیسے سنن ابی داؤد: 2042) سے ثابت ہیں جس کی بنا پر یہ روایت قابلِ حجت ہے۔
تخریج: اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن نافع الصائغ کے حافظے کے حوالے سے محدثین کے ہاں کلام ہے، تاہم اس حدیث کے تمام اجزاء دیگر صحیح و حسن شواہد (جیسے سنن ابی داؤد: 2042) سے ثابت ہیں جس کی بنا پر یہ روایت قابلِ حجت ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ : هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، هُوَ الْأَحْمَرُ ، ثَنَا زِيَادٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، حَدَّثَنِي الثَّلَاثَةُ الرَّهْطُ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْفَرِيضَةُ فِي الْمَسْجِدِ ، وَالتَّطَوُّعُ فِي الْبَيْتِ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ ان تین افراد کی جماعت سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مسجد میں نماز کی ادائیگی کے متعلق دریافت کیا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”فرض نماز کی ادائیگی مسجد میں ہے اور نفل نماز گھر میں پڑھنی چاہیے۔“
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ اسے امام ابنِ ماجہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ اسے امام ابنِ ماجہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے۔