قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : اسْتَقْبَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ مِنَ الْقِيَامِ ، فَقَالَ : مَا بَقِيَ مِنَ اللَّيْلِ أَفْضَلُ مِمَّا مَضَى مِنْهُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ (نمازِ تہجد کے) قیام سے فارغ ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”رات کا جتنا وقت اب باقی رہ گیا ہے، وہ اس وقت سے کہیں زیادہ فضیلت والا ہے جو گزر چکا ہے“۔
اس روایت کی سند قوی ہے اور یہ رات کے آخری پہر اور وقتِ سحر کی اس فضیلت کو بیان کرتی ہے جو دیگر احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔
اس روایت کی سند قوی ہے اور یہ رات کے آخری پہر اور وقتِ سحر کی اس فضیلت کو بیان کرتی ہے جو دیگر احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ .
598 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا أَبُو شَيْبَةَ - هُوَ إِبْرَاهِيمُ - بِهَذَا .
598 \ 2 - وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ثَنَا أَبُو شَيْبَةَ - هُوَ إِبْرَاهِيمُ - بِهَذَا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے مہینے میں بیس رکعات (تراویح) اور وتر ادا فرمایا کرتے تھے۔“
امام عبد بن حمید نے بھی اسے ابو نعیم کے واسطے سے ابو شیبہ، اور وہ ابراہیم (بن عثمان) ہیں، سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
امام عبد بن حمید نے بھی اسے ابو نعیم کے واسطے سے ابو شیبہ، اور وہ ابراہیم (بن عثمان) ہیں، سے اسی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔