المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ عَلَى الرَّاحِلَةِ باب: سواری پر نفل نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 601
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ ، يَقُولُ : قَدِمْتُ مَعَ الزُّهْرِيِّ الشَّامَ مِنْ غَزْوَةِ الْيَرْمُوكِ ، فَكُنْتُ أَرَاهُ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُمَا تَوَجَّهَتْ .ترجمہ
عمر بن عبد اللہ بن عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے عبد اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں امام زہری کے ہمراہ غزوہ یرموک سے واپسی پر ملکِ شام پہنچا، تو میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اپنی سواری پر ہی (نفل) نماز ادا فرما لیتے تھے، خواہ ان کی سواری کا رخ کسی بھی سمت میں ہوتا تھا۔“
اس اثر کی سند جید ہے اور یہ اس شرعی رخصت پر دلالت کرتا ہے کہ مسافر کے لیے نفل نماز اپنی سواری پر ادا کرنا جائز ہے، خواہ سواری کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور جانب۔