❮
❯
حدیث نمبر: 599
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا ، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا ، وَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ تَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ .
ترجمہ

سیدنا حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ (یعنی نوافل) اپنے گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بنا لو (کہ وہاں عبادت ہی نہ کرو)، اور میرے گھر (یا میری قبر) کو عید گاہ یا میلہ گاہ نہ بناؤ (کہ وہاں بار بار اجتماع کی جگہ بنا لو)، اور مجھ پر درود و سلام بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود و سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے خواہ تم (کائنات کے) کسی بھی حصے میں ہو“۔
تخریج: اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی عبد اللہ بن نافع الصائغ کے حافظے کے حوالے سے محدثین کے ہاں کلام ہے، تاہم اس حدیث کے تمام اجزاء دیگر صحیح و حسن شواہد (جیسے سنن ابی داؤد: 2042) سے ثابت ہیں جس کی بنا پر یہ روایت قابلِ حجت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 599
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لغيره. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 21169، وأخرجه مسند البزار برقم: 3777، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 5279، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 6652، 6655، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1649»