کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: امام کو نماز مختصر کرنے کا حکم۔
❮
❯
[قَالَ] إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
419 \ 1 - قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
419 \ 2 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَ ذَلِكَ .
420 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْرَجُوهُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نماز پڑھانے میں اختصار اور آسانی ملحوظ رکھا کرو، کیونکہ تمہارے پیچھے مقتدیوں میں ناتواں، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔“
نیز امام اعمش نے ابراہیم کے واسطے سے حارث بن سوید سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے، نیز ابراہیم نخعی نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
مزید برآں حبیب بن ابی ثابت نے سعید بن جبیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم ﷺ کا اسی طرح کا ارشادِ گرامی نقل کیا ہے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو ائمہ حدیث نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 418
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث صحيح. »
«أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 703، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 467، ومالك فى «الموطأ» برقم: 442 ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1760، 2136، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 822 والحميدي فى «مسنده» برقم: 1017، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6331، ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 899، وأبو داود فى «سننه» برقم: 794، 795، والترمذي فى «جامعه» برقم: 236، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2516»
قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ
قَالَ وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ
ترجمہ
امام اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں ابراہیم نے حارث بن سوید کے واسطے سے سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل بیان کیا۔
نیز ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل بیان کیا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 419
قَالَ وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُما عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْرَجُوهُ
ترجمہ
حبیب بن ابی ثابت نے سعید بن جبیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل روایت بیان کی ہے۔ (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو (ائمہ کتب ستہ) نے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 420
[وَ] قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ قَالَ : إِنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ أَمِيرٌ ، فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : يَرْحَمُكَ اللهُ [أَرَأَيْتَ] هَذِهِ الصَّلَاةَ ، الْمَكْتُوبَةُ أَمْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ ؟ قَالَ : إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ ، وَإِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْطَأْتُ مِنْهَا [إِلَّا شَيْئًا] سَهَوْتُ عَنْهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ [وَالدِّيَارَاتِ] وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ .
ترجمہ
سہل بن ابی امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے (سیدنا انس نے) ایک ایسی مختصر نماز پڑھائی جو گویا مسافر کی نماز تھی یا اس کے قریب قریب تھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو سائل نے عرض کیا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ آپ پر رحم فرمائے“، یہ بتائیے کہ کیا یہ فرض نماز تھی یا آپ نے نفل ادا کیے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ فرض نماز ہی تھی اور بے شک یہی اللہ کے رسول ﷺ کی نماز تھی، میں نے اس (کی ادائیگی) میں کوئی کمی نہیں کی سوائے اس کے کہ جس سے میں سہواً غافل ہو گیا ہوں۔“ بے شک رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”تم اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ تم پر بھی سختی کر دی جائے، کیونکہ ایک قوم نے اپنے نفسوں پر سختی کی تو ان پر بھی سختی کر دی گئی، سو اب ان کے باقی ماندہ لوگ (عیسائیوں کے) صومعوں اور خانقاہوں میں (موجود) ہیں، (جیسا کہ اللہ نے فرمایا:) ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الحديد: 27] ”اور رہبانیت کی یہ بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اسے ان پر واجب نہیں کیا تھا“۔“
مسند ابو یعلیٰ: 421، سنن ابی داؤد: 4904، علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 421
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2178، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4904، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3694، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 421، 1862»
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا الْحَجَّاجُ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِقَوْمِهِ الْفَجْرَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مَعَهُ نَاضِحٌ لَهُ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ صَلَّى الْأَعْرَابِيُّ وَتَرَكَ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرُوا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : خِفْتُ عَلَى نَاضِحِي ، وَلِي عِيَالٌ [أَكْتَسِبُ] عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ، [لَا تَكُنْ فَتَّانًا ] " .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں ﴿سورة البقرة﴾ [سورة البقرة] کی تلاوت فرمائی، ان کے پیچھے ایک دیہاتی شخص بھی نماز میں شریک تھا جس کے پاس اپنا پانی ڈھونے والا اونٹ تھا، جب دوسری رکعت ہوئی تو اس دیہاتی نے (جماعت سے الگ ہو کر) اپنی نماز تنہا ادا کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا، پس لوگوں نے اس بات کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی تو اس شخص نے (بطورِ عذر) عرض کیا: ”مجھے اپنے پانی لادنے والے اونٹ کے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا، اور مجھ پر اہل و عیال کی ذمہ داری ہے جن کے لیے میں تگ و دو کرتا ہوں“، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں ان میں موجود سب سے کمزور شخص کی استطاعت کے مطابق نماز پڑھایا کرو، کیونکہ ان میں بچے، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں، تم فتنے (آزمائش) میں ڈالنے والے نہ بنو“۔
مسند احمد بن منیع کی اس روایت کی سند اصبغ بن نباتہ کے سبب ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیگر معتبر اسناد سے ثابت ہے جہاں عشاء کی نماز میں طویل قراءت پر نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ فرمائی تھی۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»