المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَمْرِ الْإِمَامِ بِالتَّخْفِيفِ باب: امام کو نماز مختصر کرنے کا حکم۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِيهِ : " وَمَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ فَاقْتَصَدَ بِهِمْ فِي حُضُورِهِ وَقِرَاءَتِهِ ، وَرُكُوعِهِ ، وَسُجُودِهِ ، وَقُعُودِهِ ، فَلَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ ، وَمَنْ لَمْ يَقْتَصِدْ بِهِمْ فِي ذَلِكَ رُدَّتْ عَلَيْهِ صَلَاتُهُ وَلَمْ تَتَجَاوَزْ تَرَاقِيَهُ ، وَكَانَ بِمَنْزِلَةِ أَمِيرٍ جَائِرٍ مُعْتَدٍ لَمْ يُصْلِحْ إِلَى رَعِيَّتِهِ ، وَلَمْ يَقُمْ فِيهِمْ بِأَمْرِ اللهِ تَعَالَى " فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بِأَبِي وَأُمِّي ، وَمَا مَنْزِلَةُ الْأَمِيرِ الْجَائِرِ الْمُعْتَدِي الَّذِي لَمْ يُصْلِحْ لِرَعِيَّتِهِ ، وَلَمْ يَقُمْ فِيهِمْ بِأَمْرِ اللهِ تَعَالَى ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ رَابِعُ أَرْبَعَةٍ ، وَهُوَ أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ : إِبْلِيسُ ، وَفِرْعَوْنُ ، وَقَابِيلُ قَاتِلُ النَّفْسِ ، وَالْأَمِيرُ الْجَائِرُ رَابِعُهُمْ " .
هَذَا حَدِيثٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے یہ بھی ذکر فرمایا: ”جس شخص نے کسی گروہ کی امامت کے فرائض سرانجام دیے درآنحالیکہ وہ لوگ اس سے راضی و خوشنود ہوں، اور اس نے اپنی حاضری (قیام)، قرات، رکوع، سجود اور قعدہ میں ان کے ساتھ اعتدال و میانہ روی کی راہ اختیار کی، تو اسے ان تمام مقتدیوں کے برابر اجر ملے گا۔ لیکن جس نے ان امور میں اعتدال سے کام نہ لیا، تو اس کی نماز اس پر لوٹا دی جائے گی (یعنی قبول نہ ہوگی) اور وہ اس کی ہنسلی کی ہڈیوں سے اوپر نہیں چڑھے گی؛ نیز وہ ایسے ظالم اور حد سے تجاوز کرنے والے حکمران کی مانند قرار پائے گا جس نے اپنی رعایا کی بہتری و اصلاح کی فکر نہ کی اور نہ ہی ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نافذ کیا۔“ اس پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اس ظالم اور حد سے بڑھ جانے والے حکمران کا کیا انجام ہوگا جس نے نہ اپنی رعایا کی اصلاح کی اور نہ ہی ان میں اللہ کے احکام قائم کیے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ ان چار اشخاص میں سے چوتھا ہوگا جو قیامت کے دن سب سے سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے: ابلیس، فرعون، انسانی جان کو ناحق قتل کرنے والا قابیل، اور چوتھا وہ ظالم حکمران ہے۔“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔
[قَالَ] إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
419 \ 1 - قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، مِثْلَ ذَلِكَ .
419 \ 2 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ مِثْلَ ذَلِكَ .
420 - قَالَ : وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْرَجُوهُ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نماز پڑھانے میں اختصار اور آسانی ملحوظ رکھا کرو، کیونکہ تمہارے پیچھے مقتدیوں میں ناتواں، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔“
نیز امام اعمش نے ابراہیم کے واسطے سے حارث بن سوید سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے، نیز ابراہیم نخعی نے بھی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
مزید برآں حبیب بن ابی ثابت نے سعید بن جبیر کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم ﷺ کا اسی طرح کا ارشادِ گرامی نقل کیا ہے۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو ائمہ حدیث نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔