المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَمْرِ الْإِمَامِ بِالتَّخْفِيفِ باب: امام کو نماز مختصر کرنے کا حکم۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا الْحَجَّاجُ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِقَوْمِهِ الْفَجْرَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَخَلْفَهُ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مَعَهُ نَاضِحٌ لَهُ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ صَلَّى الْأَعْرَابِيُّ وَتَرَكَ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرُوا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : خِفْتُ عَلَى نَاضِحِي ، وَلِي عِيَالٌ [أَكْتَسِبُ] عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلِّ بِهِمْ صَلَاةَ أَضْعَفِهِمْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ ، [لَا تَكُنْ فَتَّانًا ] " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں ﴿سورة البقرة﴾ [سورة البقرة] کی تلاوت فرمائی، ان کے پیچھے ایک دیہاتی شخص بھی نماز میں شریک تھا جس کے پاس اپنا پانی ڈھونے والا اونٹ تھا، جب دوسری رکعت ہوئی تو اس دیہاتی نے (جماعت سے الگ ہو کر) اپنی نماز تنہا ادا کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا، پس لوگوں نے اس بات کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی تو اس شخص نے (بطورِ عذر) عرض کیا: ”مجھے اپنے پانی لادنے والے اونٹ کے ضائع ہونے کا اندیشہ تھا، اور مجھ پر اہل و عیال کی ذمہ داری ہے جن کے لیے میں تگ و دو کرتا ہوں“، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں ان میں موجود سب سے کمزور شخص کی استطاعت کے مطابق نماز پڑھایا کرو، کیونکہ ان میں بچے، بوڑھے اور ضرورت مند لوگ بھی ہوتے ہیں، تم فتنے (آزمائش) میں ڈالنے والے نہ بنو“۔
مسند احمد بن منیع کی اس روایت کی سند اصبغ بن نباتہ کے سبب ضعیف ہے، تاہم اس واقعے کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیگر معتبر اسناد سے ثابت ہے جہاں عشاء کی نماز میں طویل قراءت پر نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ فرمائی تھی۔