المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَمْرِ الْإِمَامِ بِالتَّخْفِيفِ باب: امام کو نماز مختصر کرنے کا حکم۔
[وَ] قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ قَالَ : إِنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ حَدَّثَهُ : أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زَمَنَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَهُوَ أَمِيرٌ ، فَصَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : يَرْحَمُكَ اللهُ [أَرَأَيْتَ] هَذِهِ الصَّلَاةَ ، الْمَكْتُوبَةُ أَمْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ ؟ قَالَ : إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ ، وَإِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْطَأْتُ مِنْهَا [إِلَّا شَيْئًا] سَهَوْتُ عَنْهُ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشُدِّدَ عَلَيْهِمْ ، فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ [وَالدِّيَارَاتِ] وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ .سہل بن ابی امامہ بن سہل سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے والد سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے (سیدنا انس نے) ایک ایسی مختصر نماز پڑھائی جو گویا مسافر کی نماز تھی یا اس کے قریب قریب تھی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو سائل نے عرض کیا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ آپ پر رحم فرمائے“، یہ بتائیے کہ کیا یہ فرض نماز تھی یا آپ نے نفل ادا کیے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ”یہ فرض نماز ہی تھی اور بے شک یہی اللہ کے رسول ﷺ کی نماز تھی، میں نے اس (کی ادائیگی) میں کوئی کمی نہیں کی سوائے اس کے کہ جس سے میں سہواً غافل ہو گیا ہوں۔“ بے شک رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”تم اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ تم پر بھی سختی کر دی جائے، کیونکہ ایک قوم نے اپنے نفسوں پر سختی کی تو ان پر بھی سختی کر دی گئی، سو اب ان کے باقی ماندہ لوگ (عیسائیوں کے) صومعوں اور خانقاہوں میں (موجود) ہیں، (جیسا کہ اللہ نے فرمایا:) ﴿وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ﴾ [سورة الحديد: 27] ”اور رہبانیت کی یہ بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، ہم نے اسے ان پر واجب نہیں کیا تھا“۔“
مسند ابو یعلیٰ: 421، سنن ابی داؤد: 4904، علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔