کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: معمول کے پیمانوں سے نماز کے اوقات کی رعایت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ الْيَزَنِيِّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الدِّيكَ الْأَبْيَضَ ، وَيَأْمُرُ بِاتِّخَاذِهِ وَيَقُولُ : " إِنَّهُ يُؤَذِّنُ لِلصَّلَاةِ ، وَيُوقِظُ النَّائِمَ ، وَيَطْرُدُ الْجِنَّ بِصِيَاحِهِ " .
ترجمہ
عبیدہ یزنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفید مرغ کو پسند فرماتے تھے اور اسے (گھروں میں) رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے تھے: ”بے شک یہ نماز کے لیے پکارتا ہے، سونے والے کو بیدار کرتا ہے اور اپنی بانگ کے ذریعے جنات کو دور بھگا دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند میں احوص بن حکیم ضعیف راوی ہے اور یہ روایت مرسل ہے۔
اس حدیث کی سند میں احوص بن حکیم ضعیف راوی ہے اور یہ روایت مرسل ہے۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنِي بِشْرٌ ، عَنْ زَيْنَبَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَتَّخِذُ دِيكًا لِوَقْتِ صَلَاتِهَا وَلِوَقْتِ سَحُورِهَا " .
ترجمہ
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی نماز کے اوقات اور سحری کے وقت کی پہچان کے لیے ایک مرغا رکھا کرتی تھیں“۔
اس روایت کو امام بخاری نے 'الادب المفرد' (حدیث: 1206) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
اس روایت کو امام بخاری نے 'الادب المفرد' (حدیث: 1206) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔