المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ الْجَمْعِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ لِلْحَاجَةِ باب: کسی ضرورت کے پیشِ نظر ظہر اور عصر کی نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے (جمع کرنے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 277
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَّاطُ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَلْقَمَةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ " إِنَّ وَفْدَ ثَقِيفَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَوْا إِلَيْهِ هَدِيَّةً ، فَسَأَلُوهُ وَمَا زَالُوا يَسْأَلُونَهُ حَتَّى مَا صَلَّوُا الظُّهْرَ إِلَّا مَعَ الْعَصْرِ " .ترجمہ
سیدنا عبد الملک بن علقمہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قبیلہ ثقیف کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور انہوں نے آپ ﷺ کی بارگاہ میں ایک ہدیہ پیش کیا، پھر وہ آپ ﷺ سے علمی و دینی مسائل دریافت کرنے لگے اور وہ مسلسل آپ ﷺ سے سوالات کرتے رہے یہاں تک کہ (کثرتِ سوال اور آپ ﷺ کی ان کی طرف بھرپور توجہ کی بنا پر وقت گزرنے کا احساس نہ ہوا اور) انہوں نے ظہر کی نماز عصر کے وقت کے ساتھ ہی ادا کی۔“
اس حدیث کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند (رقم: 277) میں روایت کیا ہے۔