المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْقَهْقَهَةِ باب: قہقہہ لگانے کا بیان۔
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَخَلْفَهُ أَصْحَابُهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ أَعْمَى فَوَطِئَ عَلَى خَصَفَةٍ عَلَى رَأْسِ بِئْرٍ فَتَرَدَّى فِي الْبِئْرِ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ضَحِكَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ " .ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے (نماز میں) شریک تھے، اسی دوران ایک نابینا شخص آیا اور اس کا پاؤں کنویں کے دہانے پر پڑی ہوئی کھجور کے پتوں کی ایک چٹائی پر پڑ گیا جس کی وجہ سے وہ کنویں میں گر پڑا، (یہ دیکھ کر) مقتدیوں میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم ارشاد فرمایا کہ ”جس شخص کو (نماز میں) ہنسی آئی ہے وہ اپنا وضو دوبارہ کرے۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ ابوالعالیہ تابعی ہیں اور انہوں نے براہِ راست نبی کریم ﷺ کا زمانہ نہیں پایا، تاہم فقہائے احناف کے نزدیک نماز میں قہقہہ لگانے سے وضو ٹوٹنے کے مسئلے میں ایسی ہی مرسل روایات بنیاد بنتی ہیں۔