المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ بِاللَّيْلِ باب: رات کے وقت برتن ڈھانپنے کے حکم کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَلَا آتِيكَ بِشَرَابٍ نَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ نَبِيذٌ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا أَكْبَبْتَ عَلَيْهِ إِنَاءً وَعَرَضْتَ عَلَيْهِ عُودًا ؟ " قَالَ : فَشَرِبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَقَطَّبَ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّ عَلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ وَسَقَاهُ " .آلِ ابی وداعہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ نے پینے کے لیے کچھ طلب فرمایا، تو وہاں موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”کیا میں آپ کی خدمت میں وہ مشروب پیش نہ کروں جو ہم (گھروں میں) تیار کرتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں (ضرور)۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا جس میں نبیذ تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے (حفاظتی تدبیر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”تم نے اس برتن کو (اوپر سے) کسی چیز سے ڈھانپا کیوں نہیں یا اس پر کوئی لکڑی ہی عرض میں رکھ دیتے؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اس میں سے نوش فرمایا تو (اس کی حدت یا تیزی کی وجہ سے) آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ظاہر ہوئے، پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اس (نبیذ) پر ڈالا (تاکہ اس کی شدت کم ہو جائے)، پھر آپ ﷺ نے خود بھی اسے نوش فرمایا اور دوسروں کو بھی پلایا۔