المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابٌ فِي الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ بِاللَّيْلِ باب: رات کے وقت برتن ڈھانپنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 31
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ : أَبُو حُمَيْدٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ لَبَنٌ مِنَ النَّقِيعِ نَهَارًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا خَمَّرْتَهُ ؟ وَلَوْ أَنْ تَعْرُضَ عَلَيْهِ بِعُودٍ " . صَحِيحٌ ، وَالْمَحْفُوظُ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوحمید نامی ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ایک برتن لے کر آئے جس میں نقیع (مدینہ منورہ کی ایک چراگاہ) کا دودھ تھا اور یہ دن کا وقت تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے اسے کسی چیز سے ڈھانپ کیوں نہ لیا؟ تم اسے ضرور ڈھانپ دیتے خواہ اس کے اوپر (چوڑائی میں) کوئی لکڑی ہی رکھ دیتے“۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس متن کا محفوظ طریق سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے۔