کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: بلی اور دوسرے پاک جانوروں کے جوٹھے کا بیان۔
❮
❯
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي قَالَتْ : " كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأُهْدِيَ لَهَا صَحْفَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ ، وَقَامَتْ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا نُصَلِّي ، فَخَالَفَتْ هِرَّةٌ إِلَى الطَّعَامِ فَأَكَلَتْ مِنْهُ . فَلَمَّا أَنْ سَلَّمْنَا أَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا الْقَصْعَةَ فَكَوَّرَتْهَا حَتَّى كَانَ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ مِنْ نَحْوِهَا ، فَأَكَلَتْ مِنْهُ " .
ترجمہ
عبدالرحمن بن حرملہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ انہیں ایک بڑا پیالہ ہدیہ کیا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا، پھر وہ نماز کے لیے کھڑی ہو گئیں اور ہم بھی ان کے ہمراہ نماز پڑھنے لگے، اسی دوران ایک بلی چپکے سے کھانے کی طرف لپکی اور اس میں سے کچھ کھا لیا، پس جب ہم نے نماز کا سلام پھیرا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ برتن پکڑا اور اسے (یعنی کھانے کو) اچھی طرح اوپر نیچے کر کے برابر کر دیا یہاں تک کہ جس جگہ سے بلی نے کھایا تھا وہ مقام ادھر ادھر ہو گیا، پھر انہوں نے اس میں سے تناول فرمایا۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، وَحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " لَا بَأْسَ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ " .
ترجمہ
رکین بن ربیع اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: ”بلی کے جھوٹے (بچے ہوئے پانی یا کھانے) کے استعمال میں کوئی حرج و مضائقہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 19
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْجَابِرِيِّ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ : الْهِرُّ يَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ بِسُؤْرِ الْهِرِّ " .
وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا عِنْدَ أَهْلِ السُّنَنِ الْأَرْبَعِ وَابْنِ خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْهِرَّةِ : إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ . صَحِيحٌ .
ترجمہ
ابوسعید جابری سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بلی برتن سے پانی پی سکتی ہے؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”بلی کے «سُؤْر» (جھوٹے برتن یا اس کے پئے ہوئے پانی) میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔“ اور یہی روایت مرفوعاً سننِ اربعہ اور صحیح ابن خزیمہ میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے متعلق ارشاد فرمایا: ”یقیناً یہ ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والے «الطَّوَّافِينَ» اور «الطَّوَّافَاتِ» (گھومنے پھرنے والے نر و مادہ گھریلو جانوروں) میں سے ہے۔“ یہ روایت صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 20
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ . »
«أخرجه الدارقطني فى «سننه» برقم: 220، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 20، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 338»