❮
❯
حدیث نمبر: 18
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، حَدَّثَتْنِي أُمِّي قَالَتْ : " كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأُهْدِيَ لَهَا صَحْفَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ ، وَقَامَتْ إِلَى الصَّلَاةِ وَقُمْنَا نُصَلِّي ، فَخَالَفَتْ هِرَّةٌ إِلَى الطَّعَامِ فَأَكَلَتْ مِنْهُ . فَلَمَّا أَنْ سَلَّمْنَا أَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا الْقَصْعَةَ فَكَوَّرَتْهَا حَتَّى كَانَ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ مِنْ نَحْوِهَا ، فَأَكَلَتْ مِنْهُ " .
ترجمہ

عبدالرحمن بن حرملہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ انہیں ایک بڑا پیالہ ہدیہ کیا گیا جس میں روٹی اور گوشت تھا، پھر وہ نماز کے لیے کھڑی ہو گئیں اور ہم بھی ان کے ہمراہ نماز پڑھنے لگے، اسی دوران ایک بلی چپکے سے کھانے کی طرف لپکی اور اس میں سے کچھ کھا لیا، پس جب ہم نے نماز کا سلام پھیرا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ برتن پکڑا اور اسے (یعنی کھانے کو) اچھی طرح اوپر نیچے کر کے برابر کر دیا یہاں تک کہ جس جگہ سے بلی نے کھایا تھا وہ مقام ادھر ادھر ہو گیا، پھر انہوں نے اس میں سے تناول فرمایا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الطهارة / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الأثر ضعيف. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»