المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ وَغَيْرِهَا مِنَ الْحَيَوَانَاتِ الطَّاهِرَةِ باب: بلی اور دوسرے پاک جانوروں کے جوٹھے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْجَابِرِيِّ ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سُئِلَ : الْهِرُّ يَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ ؟ قَالَ : " لَا بَأْسَ بِسُؤْرِ الْهِرِّ " .
وَقَدْ رُوِيَ مَرْفُوعًا عِنْدَ أَهْلِ السُّنَنِ الْأَرْبَعِ وَابْنِ خُزَيْمَةَ فِي صَحِيحِهِ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْهِرَّةِ : إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ . صَحِيحٌ .ترجمہ
ابوسعید جابری سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا بلی برتن سے پانی پی سکتی ہے؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”بلی کے «سُؤْر» (جھوٹے برتن یا اس کے پئے ہوئے پانی) میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔“ اور یہی روایت مرفوعاً سننِ اربعہ اور صحیح ابن خزیمہ میں سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے متعلق ارشاد فرمایا: ”یقیناً یہ ناپاک نہیں ہے، بلکہ یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والے «الطَّوَّافِينَ» اور «الطَّوَّافَاتِ» (گھومنے پھرنے والے نر و مادہ گھریلو جانوروں) میں سے ہے۔“ یہ روایت صحیح ہے۔