کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جنت میں کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، دنیا سے بہتر ہے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، دنیا اور اس میں موجود ( سب چیزوں ) سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا وَلَنَصِيفُ امْرَأَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا " . قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا التَّضْعِيفُ ؟ قَالَ : الْخِمَارُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کے کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے اور جنت میں تم میں سے کسی ایک کی کمان کی جگہ ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے ، اور جنتی عورت کی اوڑھنی ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اے سیدنا ابوہریرہ ! ” نصیف “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اوڑھنی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔