حدیث نمبر: 18735
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ثِيَابُنَا فِي الْجَنَّةِ نَنْسِجُهَا بِأَيْدِينَا ، فَضَحِكَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : لِمَ تَضْحَكُونَ مِنَّا ؟ ! جَافٍ يَسْأَلُ عَالِمًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقْتَ يَا أَعْرَابِيُّ ، وَلَكِنَّهَا ثَمَرَاتٌ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا وَلَكِنَّهَا تُخْلَقُ خَلْقًا ، أَوْ تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا ؟ لَا يَا أَعْرَابِيُّ ، وَلَكِنَّهَا تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ " . وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيِّ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا: جنت میں ہم اپنے کپڑے اپنے ہاتھوں کے ذریعے تیار کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس بات پر ہنس پڑے ، اس دیہاتی نے کہا: آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ جبکہ ایک ناواقف شخص ، ایک عالم سے سوال کر رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے دیہاتی ! تم نے ٹھیک کہا: ہے ، لیکن وہ ثمرات ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ جنت میں کپڑے درختوں کے ساتھ لگے ہوئے ہوں گے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دیہاتی نے کہا: آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ مخصوص طریقے سے پیدا ہوں گے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے اہل جنت کے پھل نکلیں گے ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کس بات پہ ہنس رہے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ جی نہیں ! اے اعرابی ! بلکہ جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔ “ امام ابویعلیٰ اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” دیہاتی نے کہا: آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ مخصوص طریقے سے پیدا ہوں گے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے اہل جنت کے پھل نکلیں گے ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کس بات پہ ہنس رہے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ جی نہیں ! اے اعرابی ! بلکہ جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔ “ امام ابویعلیٰ اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18736
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : وَقَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، أَخَلْقٌ يُخْلَقُ أَمْ نَسْجٌ يُنْسَجُ ؟ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا أَيْنَ السَّائِلُ ؟ ؟ " . قَالَ : " أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ " . قَالَ : " تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اہل جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ بنائے جا چکے ہیں ؟ یا یہ بنے جائیں گے ؟ تو حاضرین میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا: میں یہاں ہوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔