عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْجَنَّةُ لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے اس کا ( یعنی اینٹوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والا ) گارا ، مشک کا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ جَنَّةَ عَدْنٍ خَلَقَ فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : تَكَلَّمِي . فَقَالَتْ : " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو پیدا کیا تو اس نے اس جنت میں ایسی چیزیں پیدا کیں ، جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں ، کسی کان نے سنی نہیں ہیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اُس جنت سے فرمایا : تم کلام کرو ! تو اس نے کہا: تحقیق مومنین کامیاب ہو گئے ۔ “
وَفِي رِوَايَةٍ : " خَلَقَ اللَّهُ جَنَّةَ عَدْنٍ [ بِيَدِهِ ] ، وَدَلَّى فِيهَا ثِمَارَهَا ، وَشَقَّ فِيهَا أَنْهَارَهَا ، ثُمَّ نَظَرَ فِيهَا ، فَقَالَ لَهَا : تَكَلَّمِي . فَقَالَتْ : قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ فَقَالَ : وَعِزَّتِي ، لَا يُجَاوِرُنِي فِيكِ بَخِيلٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو اپنے دست مبارک سے پیدا کیا اور اس میں اُس کے پھل لٹکا دیے ، اور اس میں اس کی نہریں بہا دیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس جنت کی طرف دیکھا اور اس سے فرمایا : تم کلام کرو ! تو اس نے کہا: تحقیق مومنین کامیاب ہو گئے ۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میری عزت کی قسم ہے ، کوئی بخیل تمہارے اندر میرا پڑوسی نہیں بنے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور طبرانی کی معجم اوسط میں دو اسناد میں سے ایک سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور طبرانی کی معجم اوسط میں دو اسناد میں سے ایک سند عمدہ ہے ۔