کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اہل جہنم کا ، جہنم میں اور اہل ایمان کا جنت میں ہمیشہ رہنا
حدیث نمبر: 18633
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ! ، فَيَقُولُونَ : لَبَّيْكَ رَبَّنَا . قَالَ : فَيُقَالُ : هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ رَبَّنَا هَذَا الْمَوْتُ ، فَيُذْبَحُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ فَيَأْمَنُ هَؤُلَاءِ وَيَنْقَطِعُ رَجَاءُ هَؤُلَاءِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الطَّاحِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اور وہ کجلے دنبے کی مانند ہو گی ، اُسے جنت اور جہنم کے درمیان ٹھہرایا جائے گا ، پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے اہل جنت ! وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم حاضر ہیں ، تو دریافت کیا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! اے ہمارے پروردگار ! یہ موت ہے ، تو اُسے ذبح کر دیا جائے گا ، جیسے بکری کو ذبح کیا جاتا ہے ، تو یہ لوگ ( یعنی اہل جنت ) محفوظ ہو جائیں گے اور وہ لوگ ( یعنی اہل جہنم ) ان کی امید منقطع ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18634
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ يُخْبِرُكُمْ " أَنَّ الْمَرَدَّ إِلَى اللَّهِ ، إِلَى جَنَّةٍ أَوْ نَارٍ ، خُلُودٌ بِلَا مَوْتٍ ، وَإِقَامَةٌ بِلَا ظَعْنٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِيهِ : " فِي أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ " . وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سَابِطٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤ قُلْتُ : الَّذِي سَقَطَ بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ كَمَا رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ ، وَفِي طَرِيقِهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَقَالَ عَقِبَهُ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ رِوَاتَهُ مَكْنُونٍ ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ إِمَامِ أَهْلِ مَكَّةَ وَمُفْتِيهِمْ ، إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ قَدْ نَسَبَاهُ إِلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَيْسَ مِنْ صَنْعَتِهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، جب وہ ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کی طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہوں ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں یہ بات بتائی ہے : ” لوٹ کے اللہ کی طرف جانا ہے ، جنت کی طرف ، یا جہنم کی طرف ( جانا ہے ) ہمیشہ رہنے والی ایسی زندگی ، جو موت کے بغیر ہو گی ، اور ایسا رہنا جس میں روانگی نہیں ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایسے جسم ہوں گے ، جنہیں موت نہیں آئے گی ۔ “ معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ، البتہ ابن ثابت نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے درمیان عمرو بن میمون اودی نامی راوی ساقط ہے جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے ” مستدرک “ میں ، کتاب الایمان کے آخر میں اسے روایت کیا ہے ، ان کے طریق میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، عقبہ کہتے ہیں : یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کے راوی اہل مکہ ہیں اور مسلم بن خالد زنگی ، اہل مکہ کا امام اور ان کا مفتی ہے ، تاہم شیخین ( یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم ) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ شخص علم حدیث کا عالم نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” ایسے جسم ہوں گے ، جنہیں موت نہیں آئے گی ۔ “ معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ، البتہ ابن ثابت نامی راوی نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے درمیان عمرو بن میمون اودی نامی راوی ساقط ہے جیسا کہ امام حاکم رحمہ اللہ نے ” مستدرک “ میں ، کتاب الایمان کے آخر میں اسے روایت کیا ہے ، ان کے طریق میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، عقبہ کہتے ہیں : یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کے راوی اہل مکہ ہیں اور مسلم بن خالد زنگی ، اہل مکہ کا امام اور ان کا مفتی ہے ، تاہم شیخین ( یعنی امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم ) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ شخص علم حدیث کا عالم نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18635
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ قِيلَ لِأَهْلِ النَّارِ : إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ [ فِي النَّارِ ] عَدَدَ كُلِّ حَصَاةٍ فِي الدُّنْيَا لَفَرِحُوا بِهَا ، وَلَوْ قِيلَ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ : إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ [ فِي الْجَنَّةِ ] عَدَدَ كُلِّ حَصَاةٍ [ فِي النَّارِ ] لَحَزِنُوا ، وَلَكِنْ جَعَلَ لَهُمُ الْأَبَدَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظَهِيرٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اہل جہنم سے یہ کہا: جائے : تم جہنم میں اتنا عرصہ رہو گے ، جتنی دنیا میں کنکریاں ہوتی تھیں ، تو وہ اس پر بھی خوش ہو جائیں گے ، اور اگر اہل جنت سے یہ کہا: جائے : تم جنت میں اتنا عرصہ رہو گے جتنی دنیا میں کنکریاں ہوتی تھیں ، تو وہ اس پر بھی غمگین ہو جائیں گے ، لیکن ( یعنی اللہ تعالیٰ نے ) ان کے لیے ہمیشہ رہنا طے کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 18636
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِنَّ أَهْلُ النَّارِ يَدْعُونَ مَالِكًا فَلَا يُجِيبُهُمْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ . ثُمَّ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ ، فَلَا يُجِيبُهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا ، ثُمَّ يَقُولُ : اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ . ثُمَّ يَيْأَسُ الْقَوْمُ فَمَا هُوَ إِلَّا الزَّفِيرُ ، وَالشَّهِيقُ تُشْبِهُ أَصْوَاتُهُمْ أَصْوَاتَ الْحَمِيرِ ، أَوَّلُهَا شَهِيقٌ وَآخِرُهَا زَفِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اہل جہنم ( جہنم کے داروغہ ) ” مالک “ کو پکاریں گے ، وہ چالیس سال تک انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ کہے گا : ” تم اس میں رہو گے “ پھر وہ ( یعنی اہل جہنم ) اپنے پروردگار کو پکاریں گے اور یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں اس سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ ایسا کیا تو ہم ظالم ہوں گے ۔ “ تو پروردگار انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ فرمائے گا : ” تم اس میں رسوا ہو کر رہو ، اور تم میرے ساتھ کلام نہ کرو ۔ “ پھر وہ لوگ مایوس ہو جائیں گے اور پھر صرف چیخ و پکار کے آغاز والی ، اور انتہائی ناپسندیدہ آواز ہو گی اور ان کی آواز گدھے کی آواز کے ساتھ مشابہت رکھتی ہو گی ، جس کا ابتدائی حصہ گھٹا گھٹا ہوتا ہے اور اختتامی حصہ انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔