حدیث نمبر: 18305
عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ قَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - الدَّجَّالَ فَقَالَ : يَفْتَرِقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ : فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِهَا مَنَابِتِ الشِّيحِ ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ هَذَا الْفُرَاتِ ، فَيُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ ، حَتَّى يَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ ، فَيَبْعَثُونَ إِلَيْهِ طَلِيعَةً ، فِيهِمْ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ أَوْ أَبْلَقَ ، فَيُقْتَلُونَ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ بِشَيْءٍ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَيَزْعُمُونَ أَنَّ الْمَسِيحَ يَنْزِلُ فَيَقْتُلُهُ . قَالَ : وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا ، ثُمَّ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ ، فَيَمْرُجُونَ فِي الْأَرْضِ فَيُفْسِدُونَ فِيهَا . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ دَابَّةً مِثْلَ هَذِهِ النَّغْفَةِ فَتَدْخُلُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ ; فَيَمُوتُونَ ، فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ، فَيَجْأَرُ أَهْلُ الْأَرْضِ إِلَى اللَّهِ ، فَيُرْسِلُ اللَّهُ مَاءً فَيُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْهُمْ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا فِيهَا زَمْهَرِيرٌ بَارِدَةٌ ، فَلَا تَدَعُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا كُفِتَ بِتِلْكَ الرِّيحِ . ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ ، فَلَا يَبْقَى خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِلَّا مَاتَ إِلَّا مَنْ شَاءَ رَبُّكَ ، ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ، فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ مِنْ بَنِي آدَمَ خُلِقَ إِلَّا فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ ،ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ يُمْنِي كَمَنِيِّ الرِّجَالِ ، فَتَنْبُتُ جُسْمَانُهُمْ ، وَلُحْمَانُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ كَمَا تَنْبُتُ الْأَرْضُ مِنَ الرَّيِّ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : " وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ " ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ ; فَتَنْطَلِقُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَى جَسَدِهَا فَتَدْخُلُ فِيهِ ، فَيَقُومُونَ فَيَحْيَوْنَ حَيَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ . ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - لِلْخَلْقِ فَيَلْقَاهُمْ ، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ شَيْئًا إِلَّا هُوَ مُرْتَفِعٌ لَهُ يَتْبَعُهُ ، فَيَلْقَى الْيَهُودَ ، فَيَقُولُ : مَا تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : عُزَيْرًا . فَيَقُولُ : هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ بِهَيْئَةِ السَّرَابِ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : " وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا " ، ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ : مَا تَعْبُدُونَ ؟ قَالُوا ؟ الْمَسِيحَ . قَالَ : فَهَلْ يَسُرُّكُمُ الشَّرَابُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَالشَّرَابِ ، وَكَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ شَيْئًا ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ . حَتَّى يَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ ، فَيَلْقَاهُمْ ، فَيَقُولُ : مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعْبُدُ اللَّهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، فَيَنْتَهِرُهُمْ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ : مَنْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ، فَلَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا خَرَّ سَاجِدًا ، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقًا وَاحِدًا ، كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، فَيَقُولُ : قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ . ثُمَّ يَأْمُرُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ ، فَيَمُرُّ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ زُمَرًا ، أَوَائِلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ ، ثُمَّ كَأَسْرَعِ الْبَهَائِمِ . قَالَ : ثُمَّ كَذَلِكَ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ سَعْيًا ، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ مَشْيًا ، حَتَّى يَجِيءَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يَتَلَقَّى عَلَى بَطْنِهِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَبْطَأْتَ بِي . فَيَقُولُ : أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُكَ . ثُمَّ يَأْذَنُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - فِي الشَّفَاعَةِ ، فَيَكُونُ أَوَّلَ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ ، ثُمَّ مُوسَى - أَوْ قَالَ : عِيسَى - . ¤ قَالَ سَلَمَةُ : ثُمَّ يَقُومُ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَافِعًا لَا يُشَفَّعُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فِيمَا يُشَفَّعُ فِيهِ ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَهُ اللَّهُ : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا ، وَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا وَتَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ، وَبَيْتٍ فِي النَّارِ ، فَيُقَالُ : لَوْ عَمِلْتُمْ وَهُوَ يَوْمُ الْحَسْرَةِ ، قَالَ : فَيَرَى أَهْلُ النَّارِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ : لَوْ عَمِلْتُمْ ، وَيَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي النَّارِ فَيُقَالُ : لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ . ¤ ثُمَّ يَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ ، وَالنَّبِيُّونَ ، وَالشُّهَدَاءُ ، وَالصَّالِحُونَ ، وَالْمُؤْمِنُونَ ، فَيُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ، فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أُخْرِجَ مِنْ جَمِيعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَةِ اللَّهُ ، حَتَّى مَا يَتْرُكُ فِيهَا أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : " مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ " ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ : " قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ " ، وَعَقَدَ أَرْبَعًا . ¤ قَالَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ ، وَعَقَدَ أَرْبَعًا ، وَعَقَدَ أَرْبَعَ أَصَابِعَ ، وَوَصَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ . وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْهَا أَحَدًا ، غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ ، وَأَلْوَانَهُمْ ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَشْفَعُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ ، فَيَجِيءُ بِالرَّجُلِ فَيَنْظُرُ فَلَا يَعْرِفُ أَحَدًا ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ : يَا فُلَانُ أَنَا فُلَانٌ ، فَيَقُولُ : مَا أَعْرِفُكَ ، فَيَقُولُونَ : " رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ " ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ أُطْبِقَتْ عَلَيْهِمْ فَلَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ بَشَرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ ، مُخَالِفٌ لِلْحَدِيثِ الصَّحِيحِ ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ " . ¤
محمد محی الدین
ابوزعراء بیان کرتے ہیں : لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سامنے دجال کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا : لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ، ایک گروہ دجال کے پیچھے چلا جائے گا ، ایک گروہ اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین پر چلا جائے گا جہاں شیح نامی بوٹی اُگتی ہے اور ایک گروہ دریائے فرات کے کنارے آ جائے گا ، دجال ان کے ساتھ جنگ کرے گا اور وہ لوگ دجال کے ساتھ جنگ کریں گے ، یہاں تک کہ اہل ایمان ، شام کے مغربی علاقے میں اکٹھے ہوں گے اور دجال کے بارے میں اطلاع دینے کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجیں گے ، اُن میں سے کوئی شہسوار تیز سرخ رنگ کے گھوڑے پر سوار ہو گا یا سیاہ و سفید گھوڑے پر سوار ہو گا ، وہ لوگ لڑائی میں حصہ لیں گے اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگوں کا یہ کہنا ہے : کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور دجال کو قتل کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اہل کتاب کے حوالے سے اس کے علاوہ کوئی اور روایت بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ، پھر یا جوج ماجوج نکل آئیں گے ، وہ زمین میں پھیل جائیں گے اور فساد پیدا کریں گے ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور وہ ہر بلندی سے تیزی سے چلتے ہوئے آئیں گے ۔ “ پھر اللہ تعالیٰ ” نغفہ “ نامی کیڑے کی طرح کا ایک جانور ان پر مسلط کرے گا ، وہ ان کے کانوں میں اور ان کے نتھنوں میں داخل ہو گا جس کی وجہ سے وہ لوگ مر جائیں گے ان کی وجہ سے زمین بدبودار ہو جائے گی ، لوگ اس صورتحال سے اللہ کی پناہ مانگیں گے ، اللہ تعالیٰ ان پر بارش نازل کرے گا جس کے ذریعے زمین پاک ہو جائے گی ، پھر اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جس میں شدید سردی ہو گی روئے زمین پر موجود ہر مومن اس ہوا کے ذریعے انتقال کر جائے گا اور پھر قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی ، پھر فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور کے پاس کھڑا ہو گا اور وہ اس میں پھونک مارے گا تو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق مر جائے گی ، البتہ ان کا معاملہ مختلف ہے جس کے بارے میں تمہارے پروردگار نے یہ چاہا ( کہ وہ نہ مریں ) پھر دو مرتبہ پھونک مارے جانے کے درمیان اتنا وقفہ ہو گا جو اللہ چاہے گا ، زمین میں ہر انسان کے وجود کا کوئی نہ کوئی حصہ موجود ہو گا ، پھر اللہ تعالٰی اس کے نیچے سے پانی نازل کرے گا جو انسان کی منی کی طرح کا ہو گا ، اس پانی کے ذریعے لوگوں کے جسم اور ان کے گوشت پھوٹ پڑیں گے جس طرح پانی کے ذریعے زمین سے نباتات پھوٹ پڑتے ہیں ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ کی ذات وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو لے کر چلتی ہیں ، ہم انہیں ایسے شہر کی طرف بھیجتے ہیں ، جہاں کی زمین بنجر ہو اور پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کے بنجر ہو جانے کے باوجود زندگی دیدیتے ہیں ، اسی طرح ( لوگوں کو ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ “ پھر فرشتہ صور کے ہمراہ آسمان و زمین کے درمیان کھڑا ہو گا ، وہ اس میں پھونک مارے گا تو ہر جان اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی ، وہ لوگ اُٹھ کھڑے ہوں گے وہ سب ایک جیسی حالت میں زندہ ہوں گے اور تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے سامنے آئے گا ، مخلوق میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی بھی عبادت کرتا تھا ، اس کا معبود اس کے سامنے آ جائے گا اور وہ اس کے پیچھے چلا جائے گا ، اللہ تعالیٰ یہودیوں کے سامنے آئے گا اور دریافت کرے گا : تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے : سیدنا عزیر علیہ السلام کی ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم پانی کو پسند کرو گے ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھائے گا جو سراب کی مانند ہو گی ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور اس دن ہم جہنم کافروں کے سامنے لائیں گے ۔ “ پھر وہ عیسائیوں کے سامنے آئے گا اور فرمائے گا : تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے : سیدنا مسیح علیہ السلام کی ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم مشروب کو پسند کرو گے ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! تو اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھائے گا جو مشروب لگ رہی ہو گی ۔ جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جس کی عبادت کرتے تھے اُن کے ساتھ اسی طرح ہو گا ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور ان کو ٹھہرا دو ! ان سے حساب لیا جائے گا ۔ “ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے پاس آئے گا اور ان سے ملاقات کرے گا ، وہ لوگ کہیں گے : ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور ہم کسی کو اس کا شریک قرار نہیں دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ ایک یا شاید ( یہ شک راوی کو ہے ) دو مرتبہ اُن کے ساتھ سختی سے بات کرے گا : تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟ وہ جواب دیں گے : سبحان اللہ ! جب وہ ہمارے سامنے آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے ، اس وقت پنڈلی سے کپڑا ہٹایا جائے گا ، تو ہر مومن سجدے میں چلا جائے گا ، صرف منافقین باقی رہ جائیں گے اُن سب کی کمر ایک جیسی ہو گی ، یوں جیسے ان میں سلاخیں ہیں ، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ( تو ان سے کہا: جائے گا : ) تمہیں پہلے سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا ، اس وقت تم ٹھیک تھے ( لیکن اس وقت تم نے سجدہ نہیں کیا ) ۔ پھر اللہ تعالیٰ پل صراط کے بارے میں حکم دے گا اسے جہنم پر لگا دیا جائے گا ، لوگ اپنے اعمال کے حساب سے مختلف گروہوں کی شکل میں اس پر سے گزریں گے ، ان میں پہلا گروہ یوں گزرے گا جیسے بجلی چمکتی ہے ، پھر یوں گزرے گا جیسے ہوا چلتی ہے ، پھر جیسے پرندہ اڑ کر جاتا ہے ، پھر جیسے تیز رفتار جانور ہوتا ہے ، انہوں نے بیان کیا ، پھر اسی طرح لوگ چلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ کوئی شخص دوڑتا ہوا گزرے گا اور کوئی شخص پیدل چلتا ہوا گزرے گا ، یہاں تک کہ ان میں سے جو آخری شخص ہو گا وہ پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا گزرے گا اور یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے پیچھے کر دیا ، تو پروردگار فرمائے گا : تمہارے عمل نے تمہیں پیچھے کیا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کا حکم دے گا تو قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے سیدنا جبرائیل علیہ السلام ہوں گے ، پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ، پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہوں گے ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے ۔ سلمہ نامی راوی کہتے ہیں : پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے ، جن معاملات کے بارے میں شفاعت کی جا سکتی ہے ان میں ان کے بعد کوئی شفاعت نہیں کرے گا اور یہ وہ ” مقام محمود “ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ( یعنی جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا ۔ “ ہر شخص جنت میں موجود گھر اور جہنم میں موجود گھر کی طرف دیکھے گا ، تو یہ کہا: جائے گا : اگر تم عمل کرتے ، تو وہ حسرت کا دن ہو گا وہ کہتے ہیں : جہنمی اس گھر کو دیکھیں گے جو جنت میں ہو گا تو یہ کہا: جائے گا : اگر تم عمل کرتے ، اور جنتی اس گھر کو دیکھیں گے جو جہنم میں ہو گا ، تو یہ کہا: جائے گا : اگر اللہ تعالیٰ نے تم پر فضل نہ کیا ہوتا ( تو تمہیں جنت نہیں ملنی تھی ) پھر فرشتے ، انبیاء اور شہداء ، نیک لوگ اہل ایمان شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ اُن کی شفاعت قبول کرے گا ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں ، تو جہنم میں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے اس سے زیادہ تعداد میں لوگ نکلیں گے جتنے ساری مخلوق ( یعنی ساری مخلوق کی شفاعت ) کی وجہ سے نکلے تھے ، یہاں تک کہ جہنم میں کوئی ایسا فرد باقی نہیں رہے گا ، جس میں کوئی بھلائی ہو ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” کون سی چیز تمہیں جہنم میں لے آئی ؟ “ ۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ہاتھ کے ذریعے گرہ لگائی ، وہ لوگ کہیں گے : ” ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور ہم غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم ( منفی قسم کا ) غور و خوض کرنے والوں کے ساتھ غور و خوض کیا کرتے تھے اور ہم روز جزا کو جھٹلاتے تھے ، یہاں تک کہ یقین ہمارے پاس آ گیا ۔ “ سفیان کہتے ہیں : انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے گرہ لگا کر ( یعنی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بتایا ) کہ ایسا ہو گا ، انہوں نے چار انگلیوں کے ذریعے گرہ لگائی ، ابونعیم نے ایسا کر کے دکھایا تھا ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تمہیں ان میں سے کسی ایک میں کوئی بھلائی نظر آتی ہے ؟ جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرے گا کہ اب جہنم میں سے کوئی نہ نکلے تو وہ ان کے چہروں اور ان کی رنگتوں کو تبدیل کر دے گا ، پھر اہل ایمان میں سے ایک شخص آئے گا اور وہ شفاعت کرے گا ، تو اُسے یہ کہا: جائے گا : اگر تم کسی کو پہچانتے ہو تو اُسے نکال لو ، وہ شخص آئے گا اور جائزہ لے گا اُسے کوئی شخص نظر نہیں آئے گا ، تو ایک جہنمی اس سے کہے گا : اے فلاں ! میں فلاں ہوں ، تو وہ کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ہوں ، پھر وہ لوگ یہ کہیں گے ( یعنی جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ” اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں اس میں سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ ایسے ( جہنم میں جانے والے کام ) کیے تو بیشک ہم ظالم ہوں گے ، وہ ( پروردگار ) فرمائے گا : اس ( جہنم ) میں دھتکارے ہوئے ( بن کر پڑے ) رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو ۔ “ ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) جب وہ لوگ یہ کہیں گے : تو اُن پر جہنم کو بند کر دیا جائے گا اور پھر اُس میں سے کوئی بشر باہر نہیں آ سکے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت موقوف ہے اور یہ ” صحیح “ حدیث کے مخالف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور
یہ روایت موقوف ہے اور یہ ” صحیح “ حدیث کے مخالف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میں سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوؤں گا ۔ “