حدیث نمبر: 18131
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ ، أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دین یا دنیا کے کسی حوالے سے انگلیوں کے ذریعے اُس کی طرف اشارہ کیا جائے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18132
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْإِثْمِ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ " قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَيْرًا ؟ قَالَ : " وَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَهُو شَرٌّ لَهُ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَهُوَ شَرٌّ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انگلیوں کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ بھلائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگرچہ وہ بھلائی ہو ، لیکن اس شخص کے حق میں یہ ( یعنی اس کی طرف اشارہ کیا جانا ) برا ہو گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اگر وہ برائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ) تو وہ تو اُس کے لئے برا ہی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18133
وَعَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ : صَحِبْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : أَوْصِنِي - رَحِمَكَ اللَّهُ - . فَقَالَ : احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَنْفَعْكَ اللَّهُ بِهِنَّ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَعْرِفَ وَلَا تُعْرَفَ فَافْعَلْ ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْمَعَ وَلَا تَتَكَلَّمَ فَافْعَلْ ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجْلِسَ وَلَا يُجْلَسَ إِلَيْكَ فَافْعَلْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن محیریز بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں ، میں نے کہا: آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! انہوں نے فرمایا : تم میری تین باتیں یاد رکھنا ! اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے تمہیں نفع دے گا : ” اگر تم سے یہ ہو سکے کہ تم معروف نہ ہو ، تو تم ایسا کر لینا ۔ اگر تم یہ کر سکتے ہو کہ تم سنو اور بات نہ کرو ، تو تم ایسا کر لینا ۔ اور اگر تم سے ایسا ہو سکے کہ تم ( کسی کے پاس جا کر ) بیٹھو ( لوگ تمہارے پاس نہ آئیں ) اور تمہارے پاس نہ بیٹھا جائے ، تو تم ایسا کر لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔